پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں رائیڈنگ کلب کے قیام کا سنگ بنیاد ملک میں گھڑ سواری اور اولمپک کھیلوں کے فروغ کے لیے سنگ میل قرار

پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ نے بدھ کو پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں رائیڈنگ کلب کا سنگ بنیاد رکھا اور اسے ملک میں گھڑ سواری اور اولمپک کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوان سواروں کو جدید تربیتی سہولیات فراہم کرے گا اور گھڑ سواری …

اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ نے بدھ کو پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں رائیڈنگ کلب کا سنگ بنیاد رکھا اور اسے ملک میں گھڑ سواری اور اولمپک کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوان سواروں کو جدید تربیتی سہولیات فراہم کرے گا اور گھڑ سواری کے کھیل میں ٹیلنٹ کی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ قومی سپورٹس فیڈریشنز کو انفراسٹرکچر کی ترقی اور ایسے کھلاڑیوں کی تربیت میں مکمل تعاون فراہم کرتا رہے گا جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرسکیں۔ محمد یاسر پیرزادہ نے ملک میں گھڑ سواری کے کلچر کے فروغ اور اولمپک ایکوسٹرین کھیلوں میں شرکت بڑھانے کے لیے فیڈریشن کی کوششوں کو بھی سراہا۔

دوسری جانب ایکویسٹرین فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) نومنتخب صدر راجہ ضرار سجاد نے رائیڈنگ کلب کے قیام کو گھڑ سواری کے کھیل کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کی تربیت کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ سنگ بنیاد کی تقریب کے بعد ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ضرار نے وزیر اعظم شہباز شریف اور محمد یاسر پیرزادہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس منصوبے کی حمایت کی اور گھڑ سواری کی کمیونٹی کے لیے زمین فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو اس منصوبے کے لیے اس کے سازگار موسم اور گھڑ سواری کے کھیل میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث منتخب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کے پاس باصلاحیت سوار، ٹرینرز اور بین الاقوامی معیار کے کوچز موجود ہیں، جلد ہی اس کلب میں مختلف سرگرمیاں شروع ہوں گی اور یہ گھڑ سواری کے کھیل کا ایک مثالی مرکز بن جائے گا۔

راجہ ضرار نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی نان اولمپک کھیلوں جیسے ٹینٹ پیگنگ اور ہارس بیک آرچری میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے تاہم اب فیڈریشن کی توجہ اولمپک کھیلوں مثلاً ڈریسیج، شو جمپنگ اور ایونٹنگ پر مرکوز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں اولمپک ایکوسٹرین کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے سواروں کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ شہر کا موسم سال بھر تربیت اور سواری کے لیے موزوں رہتا ہے۔ ای ایف پی کے صدر نے کہا کہ اسلام آباد رائیڈنگ کلب میں بین الاقوامی کوچز کی موجودگی سے فیڈریشن کو باقاعدہ کوچنگ کلینکس، سیزنل کیمپس اور تربیتی سیشنز منعقد کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملک میں اس کھیل کا معیار بہتر ہوگا۔ پاکستان کی ٹینٹ پیگنگ میں مضبوط پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے راجہ ضرار نے کہا کہ اس شعبے میں پاکستان کے پاس سواروں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ثقافتی ٹینٹ پیگنگ سے وابستہ تقریباً 98 گھوڑے موجود ہیں جبکہ 50 سے زائد گھوڑے اس وقت بین الاقوامی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیا رائیڈنگ کلب ایسے نوجوانوں کو بھی مواقع فراہم کرے گا جو گھوڑے یا سواری کی سہولیات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ نوجوانوں کو ہوگا کیونکہ کم عمری میں مہارت کی تربیت انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں متعدد سکولز، کالجز اور جامعات موجود ہیں، اس لیے یہ ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے بہترین مقام ہے۔ راجہ ضرار نے بتایا کہ کلب مختلف شعبوں کے لیے ممبرشپ سسٹم کے تحت کام کرے گا جبکہ فیڈریشن کا سب سے بڑا سالانہ ایونٹ نیشنل چیمپئن شپ عیدالاضحیٰ کے بعد اور محرم سے قبل اسی نئے مقام پر منعقد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی مختلف ایکوسٹرین شعبوں میں سرٹیفائیڈ ٹرینرز موجود ہیں جبکہ شو جمپنگ اور دیگر اولمپک ایونٹس کے لیے مزید کوچز تیار کیے جا رہے ہیں، نئے ٹرینرز کی تیاری کے لیے آئندہ ماہ ایک کوچنگ سیشن بھی منعقد کیا جائے گا۔ مالی خودمختاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ای ایف پی کے صدر نے کہا کہ گھڑ سواری کے 70 فیصد سے زائد اخراجات جن میں گھوڑوں کی خوراک اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں، پہلے ہی سوار خود برداشت کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ شفافیت، خود کفالت اور گھوڑوں کی فلاح ان کی انتظامیہ کی بنیادی ترجیحات رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کو کامیاب بنانے کے لیے اسے خود کفیل بنانا ضروری ہے۔

مالی معاملات اور معلومات میں شفافیت سے اعتماد بڑھے گا اور مزید سپانسرز و شراکت دار متوجہ ہوں گے۔ راجہ ضرار نے گھوڑوں کی فلاح و بہبود کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جدید اصولوں کے مطابق جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ بعض روایتی تربیتی نظاموں میں پائی جانے والی گھوڑوں پر تشدد کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور نجی سپانسرز مستقبل میں بھی پاکستان میں گھڑ سواری کے کھیل کی حمایت جاری رکھیں گے۔