اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ عرب میں خطرے سے دوچار شارک کے تحفظ کے لیے فریقین کے ساتھ مشاورت سے ایک قومی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے ، ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کےلئے فوری اور منصوبہ بندی کے حامل اقدامات کی ضرورت ہے۔ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں، وفاقی وزیر …
پاکستان شارک کے تحفظ کے لیے قومی ایکشن پلان شروع کرے گا، وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ عرب میں خطرے سے دوچار شارک کے تحفظ کے لیے فریقین کے ساتھ مشاورت سے ایک قومی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے ، ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کےلئے فوری اور منصوبہ بندی کے حامل اقدامات کی ضرورت ہے۔ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں، وفاقی وزیر نے پائیدار بحری طریقوں اور عالمی تحفظ کے معیارات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ پابندی شدہ شارکوں جن میں مختلف اقسام شامل ہیں ، کا مسلسل شکار سمندری حیاتیاتی تنوع اور بین الاقوامی تحفظ کے وعدوں کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحیرہ عرب میں ہجرت کرنے والی اقسام کی شارک کو آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقسام انسانی خطرات جیسے ماہی گیری کے جال میں الجھنے اور کشتیوں سے ٹکرانے کے لیے خاص طور پر حساس ہیں جو اس کی سست نشوونما اور کم تولیدی شرح سے مزید سنگین ہو جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اور منصوبہ بند اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان شارکوں سے متعلق غیر پائیدار ماہی گیری کے طریقوں سے نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا کر سمندری غذا کی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ انتظام اولین ترجیح ہونی چاہیے، جس میں خطرے سے دوچار شارک کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر نے زور دیا کہ یہ نہ صرف قومی ذمہ داری ہے بلکہ مختلف ماحولیاتی معاہدوں کے تحت پاکستان کے عہد کا حصہ بھی ہے۔جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ قومی منصوبہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت سے تیار کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت پابندی شدہ اور خطرے سے دوچار شارکوں کے تحفظ کے موجودہ معیاری طریقہ کار اور غیر قانونی شکار کو روکنے اور قانون کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے موجودہ نگرانی اور نفاذ کے اقدامات کے بارے میں ان صوبوں سے تفصیلی رائے جمع کرے گی۔مشترکہ وفاقی اور صوبائی عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان شارک آبادیوں کے زیادہ شکار کو ختم کرنے کے لیے بہتر نگرانی، نفاذ اور عوامی آگاہی بہت ضروری ہے۔
جنید انوار چوہدری نے صوبائی ماہی پروری کے محکموں پر زور دیا کہ وہ ماہی گیروں اور فریقین کے لیے اپنے آگاہی اور تربیتی پروگراموں کے بارے میں معلومات شیئر کریں جو شارک کی شناخت اور تحفظ کے قواعد کی پابندی پر مرکوز ہوں۔ انہوں نے شارک کے ضمنی شکار اور لینڈنگ کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز اور پالیسیوں کا جائزہ لینے کی ترغیب دی تاکہ ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر بحری امور نے پاکستان کے سمندری تحفظ کے اقدامات کی کامیابی بڑھانے کے لیے بین الاقوامی تحفظ تنظیموں اور علاقائی ماہی پروری اداروں کے ساتھ مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ سندھ میرین اینڈ کوسٹل فشریز ڈویلپمنٹ آفس، بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ، کوئٹہ اور کورنگی فش ہاربر اتھارٹیز اور متعلقہ لائیوسٹاک اینڈ فشریز ڈیپارٹمنٹس جیسے کلیدی اداروں کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مشاورت شارک آبادیوں کے تحفظ کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی بنانے میں مدد دے گی جبکہ پاکستان کی ماہی پروری صنعت بین الاقوامی پائیداری کے معیارات پر پورا اترے گی۔محمد انوار چوہدری نے کہا کہ سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ساحلی معیشت اور اس پر منحصر روزگار کے مستقبل کی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔








