پاکستان علماء کونسل ( پی یو سی ) کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان علماء کونسل اور اس کی اتحادی مذہبی تنظیمیں 14 اگست کو ’’یومِ آزادی، یومِ تشکر و یومِ وحدتِ اُمت‘‘ کے طور پر منائیں گی تاکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
پاکستان علماء کونسل 14 اگست کو ’’یومِ آزادی، یومِ تشکر و یومِ وحدتِ اُمت‘‘ کے طور پر منائے گی، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل ( پی یو سی ) کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان علماء کونسل اور اس کی اتحادی مذہبی تنظیمیں 14 اگست کو ’’یومِ آزادی، یومِ تشکر و یومِ وحدتِ اُمت‘‘ کے طور پر منائیں گی تاکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔منگل کو جاری اپنے ویڈیو پیغام میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے دستخطوں سے طے پانے والے تاریخی معاہدے سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس نے اُمتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کو عملی شکل دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سہ فریقی معاہدہ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت اور اقدام سے ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں طے پایا اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ 14 اگست کو پاکستان بھر میں خطباتِ جمعہ میں پاکستان کے استحکام اور سلامتی، قیامِ پاکستان میں علماء و مشائخ کے تاریخی کردار، مدارس و مساجد کی خدمات اور ملک کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے وحدتِ اُمت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔انہوں نے علماء و مشائخ پر زور دیا کہ وہ عوام کو مکہ معاہدے کی اہمیت سے آگاہ کریں اور مسلم اتحاد کی جانب ایک اہم پیش رفت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو اس اقدام کو آگے بڑھانے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مسلم ممالک کے درمیان مزید اتحاد اور تعاون کے لیے جاری کوششیں مزید مضبوط ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ مسلم اقوام کے درمیان مضبوط اتحاد انتہا پسندی، نفرت، دہشت گردی اور مسلم دنیا کو درپیش دیگر چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے اُمتِ مسلمہ کو درپیش اہم مسائل کے حل کے لیے بھی نئی پیش رفت ممکن ہوگی۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے بالخصوص فلسطین اور کشمیر کو مسلم دنیا کے دو اہم ترین مسائل قرار دیتے ہوئے ان کے حل کے لیے اجتماعی توجہ اور کوششیں مزید بڑھانے پر زور دیا۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان سے باہر بھی اپنی اپیل کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دنیا بھر کے علماء، مشائخ، مبلغین، واعظین، مذہبی خطباء اور اسکالرز سے اپیل کی کہ وہ 14 اگست کو اپنے خطابات اور خطبات میں اتحاد، تشکر اور یکجہتی کے موضوعات کو اجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخ کی قربانیوں اور خدمات، پاکستان کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد، مدارس، مساجد اور مذہبی پلیٹ فارمز کے کردار کو اجاگر کیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ حال ہی میں طے پانے والے مکہ معاہدے کو مسلم اتحاد کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جانا چاہیے اور مذہبی برادری کو چاہیے کہ وہ اس اقدام کی بھرپور حمایت کرے اور اس تاریخی پیش رفت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ ’’14 اگست کا پیغام اتحاد، تشکر، امن اور یکجہتی کا ہونا چاہیے، جس کے ساتھ پاکستان اور وسیع تر اُمتِ مسلمہ کو مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کی جائے۔‘‘








