مسلم ممالک کو اجتماعی سلامتی کے فروغ کے لیے لچکدار سٹریٹجک فریم ورک اپنانا ہوگا، بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمٰن بلال

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اپری) کے زیرہتمام بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمٰن بلال (ستارہ جرات) کی کتاب ’’مسلم نیٹو‘‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔کتاب میں مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی، باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے ایک لچکدار اور کثیر سطحی سٹریٹجک فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اپری) کے زیرہتمام بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمٰن بلال (ستارہ جرات) کی کتاب ’’مسلم نیٹو‘‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔کتاب میں مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی، باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے ایک لچکدار اور کثیر سطحی سٹریٹجک فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا گیا ہے۔کتاب میں کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام نے درمیانی درجے کی طاقتوں کے لیے زیادہ موثر کردار ادا کرنے کی سٹریٹجک گنجائش پیدا کی ہے۔

کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمٰن بلال نے کہا کہ بین الاقوامی نظام یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ درمیانی طاقتوں کا ابھار نئے سٹریٹجک مواقع پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک اب تک اپنی اجتماعی صلاحیت کو بھرپور انداز میں بروئے کار نہیں لا سکے، اس لیے عالمی سٹریٹجک ماحول، جغرافیہ، اہم سٹریٹجک گزرگاہوں اور سماجی و اقتصادی عوامل کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔مصنف نے بتایا کہ کتاب میں عالمی اور علاقائی ماحول، سٹریٹجک صف بندی کی مختلف صورتوں اور ممکنہ اسلامی اتحاد کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک شراکت داریاں اب رسمی اتحاد اور عدم وابستگی کے درمیان دوطرفہ انتخاب تک محدود نہیں رہیں بلکہ ریاستیں اپنی سٹریٹجک ضروریات اور شمولیت کی سطح کے مطابق مختلف نوعیت کے تعاون کو اختیار کر سکتی ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمٰن بلال نے نیٹو کو ایک رسمی دفاعی اتحاد کی مثال قرار دیتے ہوئے اس کے بنیادی اصول کے طور پر آرٹیکل 5 کے ساتھ وسیع پیمانے پر معیار کاری اور باہمی آپریشنل مطابقت کے طریقہ کار کو اجاگر کیا۔انہوں نے تجویز دی کہ مسلم ممالک مختلف نوعیت کے سٹریٹجک تعاون کا جائزہ لیں جن میں رسمی دفاعی انتظامات، معاون اقدامات، اقتصادی اور سفارتی ذرائع جبکہ کشیدگی میں کمی کے لیے جنگ بندی کے انتظامات اور بحران سے نمٹنے کے رابطہ ذرائع شامل ہوں۔مصنف نے زور دیا کہ کسی بھی مجوزہ اسلامی اتحاد کے حوالے سے سخت یا محدود سوچ سے گریز کرتے ہوئے ایک لچکدار فریم ورک اپنانا چاہیے جس میں آپریشنل تعاون کی مختلف سطحوں کے مطابق شرکت کے متعدد راستے موجود ہوں۔انہوں نے دیگر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ہاٹ لائنز قائم کرنے کی بھی تجویز دی تاکہ بحرانوں کی روک تھام اور کشیدگی کے ادوار میں بروقت رابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔

بریگیڈیئر (ر) عبدالرحمن بلال نے سٹریٹجک اتحاد کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے پانچ راستوں کی نشاندہی کی جن میں اتحادی نظام کی تشکیل، انسانی وسائل کی ترقی، انفراسٹرکچر اور رابطوں کا فروغ، مشترکہ فوجی صنعتی کمپلیکس کی ترقی اور انٹیلی جنس شیئرنگ و لاجسٹکس تعاون کے ذریعے باہمی عملی صلاحیت میں اضافہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی سے مشترکہ ٹیلنٹ پول تشکیل دیا جا سکتا ہے جبکہ انفراسٹرکچر کی ترقی میں باہم منسلک دفاعی و عسکری جامعات، سرحدی انفراسٹرکچر اور علاقائی رابطوں پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ فوجی صنعتی کمپلیکس میں تجارت و سفارت کاری، تکنیکی تعاون، کان کنی، حصول، سٹریٹجک ذخائر، تحقیق و ترقی اور پیداوار سمیت مکمل مینوفیکچرنگ چینز شامل ہونی چاہئیں، اس نوعیت کا تعاون قومی طاقت کے تمام عناصر کو متحرک کرکے سٹریٹجک ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے اور سیاسی سمت کو آپریشنل تیاری، فوری متحرک کاری، ڈیٹرنس، معیار کاری اور طویل مدتی ترقی سے جوڑ سکتا ہے۔

مصنف نے اعلیٰ معیار کے اداروں کے قیام کی بھی تجویز دی جن میں ایک خصوصی دفاعی یونیورسٹی اور ایک جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیڈکوارٹر شامل ہے جو روایتی تینوں مسلح افواج کے ڈھانچے سے آگے بڑھ کر کام کر سکے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر روابط قائم کرنے، مفید تحقیقی نتائج پیدا کرنے اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی و ٹیکنالوجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی حل تیار کرنے چاہئیں۔کتاب کے چوتھے باب میں دفاعی کلسٹرز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مصنف نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے 57 رکن ممالک ہیں جن میں سے 48 میں مسلم اکثریتی آبادی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ مسلم ممالک تیاری، ڈیٹرنس اور استحکام کے فروغ کے لیے علاقائی سطح پر مربوط دفاعی کلسٹرز تشکیل دے سکتے ہیں۔

مغربی خطے سے آغاز کرتے ہوئے انہوں نے مراکش کو ابھرتی ہوئی طاقت اور سٹریٹجک اہمیت کا حامل ملک قرار دیا اور کہا کہ علاقائی کلسٹرز مسلم ممالک کو زیادہ سٹریٹجک رسائی اور اجتماعی صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ فریم ورک کو مرحلہ وار کلسٹرز اور باہم منسلک اداروں کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور اس کے لیے مکہ اعلامیہ جیسے اقدامات کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس تعاون کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف ہونا نہیں بلکہ اس کا محور امن، استحکام، ڈیٹرنس، اجتماعی لچک اور مسلم ممالک کے جائز مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔تقریب رونمائی میں سابق اعلیٰ فوجی حکام، سفارت کاروں، پالیسی سازوں، محققین اور علمی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

تقریب سے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) احسان الحق ، سابق چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بھی خطاب کیا۔صدر آئی پی آر آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ماجد احسان نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اجتماعی مسلم اتحاد کے موضوع پر مزید جامع تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ استحکام اور خوشحالی کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

 

مزید خبریں