وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ترکیہ کے اعلیٰ سطحی تکنیکی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان شعبہ صحت میں تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ترکیہ کے اعلیٰ سطحی تکنیکی وفد کی ملاقات، شعبہ صحت میں تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ترکیہ کے اعلیٰ سطحی تکنیکی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان شعبہ صحت میں تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ترکیہ کے تکنیکی وفد کے دورہ پاکستان کا مقصد ملک میں صحت کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ وفد پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار کی صلاحیتوں اور امکانات کا بھی جائزہ لے گا جبکہ صحت کے شعبے میں موجود تجربات، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ترکیہ کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات دیرینہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان شعبہ صحت میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستان صحت کے شعبے میں خود انحصاری اور نظام کی پائیداری کے وسیع ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے موثر پیش رفت جاری ہے، پاکستان نے پہلی بار نیشنل ویکسین پالیسی تشکیل دی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ حکومت پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی اور تمام ویکسین بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان عالمی اداروں کے تعاون سے یہ ویکسین درآمد کرتی ہے جس کی 51 فیصد لاگت پاکستان خود برداشت کرتا ہے جبکہ 49 فیصد لاگت بین الاقوامی ادارے برداشت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2030ء تک بیرونی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی جس کے بعد پاکستان کو ویکسین کی مکمل لاگت خود برداشت کرنا ہوگی۔ ویکسین کی درآمد پر سالانہ تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، اس لیے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا بندوبست ناگزیر ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ انڈونیشیا کی بائیو فارما کمپنی کے ساتھ ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈریپ میں 90 فیصد ڈیجیٹائزیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اپریل 2027ء تک ڈریپ کے ڈبلیو ایچ او لیول تھری کے حصول کی توقع ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کسی بھی مریض کا یونیورسل میڈیکل ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
حکومت ایسا منصوبہ شروع کر رہی ہے جس کے تحت ہر شہری کا شناختی کارڈ ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہوگا جس سے شہریوں کے طبی ریکارڈ کو ایک مربوط نظام کے تحت محفوظ اور قابل رسائی بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان شعبہ صحت میں تعاون کو مزید وسعت دینا دونوں ممالک کے عوام کے لیے صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور شعبہ صحت میں خود انحصاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔







