آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم میلکم ٹرن بُل نے کہا ہے کہ اگر آسٹریلیا نے اپنی موجودہ پالیسی تبدیل نہ کی تو ملک مزید غیر محفوظ اور کمزور ہوجائے گا جبکہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت بھی مزید متاثر ہوگی
سہ فریقی سکیورٹی شراکت داری کا معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا،سابق وزیراعظم

مزید خبریں
کینبرا۔11اگست (اے پی پی):آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم میلکم ٹرن بُل نے کہا ہے کہ اگر آسٹریلیا نے اپنی موجودہ پالیسی تبدیل نہ کی تو ملک مزید غیر محفوظ اور کمزور ہوجائے گا جبکہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت بھی مزید متاثر ہوگی۔ شنہوا کے مطابق یہ بات انہوں نے سڈنی میں نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ ہائوس میں برطانیہ اور امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے پر ہونے والی بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری نے آسٹریلیا کو امریکا پر مزید انحصار کرنے والا ملک بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کو مجوزہ جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بالآخر ملیں گی یا نہیں، اس کا انحصار امریکا اور برطانیہ کے فیصلوں اور صنعتی پیش رفت پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تقریباً کوئی اختیار نہیں بالکل بھی آزادانہ اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی آسٹریلیا کے برطانیہ اور امریکا کے ساتھ دفاعی اتحاد کے معاہدے کا حامی ہو یا ناقد، یہ معاہدہ ’’آسٹریلوی خودمختاری کی ایک بہت بڑی قربانی‘‘ پر مشتمل ہے۔
سماعت میں ٹرن بُل کے علاوہ دیگر سابق حکومتی عہدیداروں، آسٹریلوی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں، ماہرین اور دانشوروں نے بھی شرکت کی۔ سماعت کے مقام کے باہر شہریوں نےآسٹریلیا کے برطانیہ اور امریکا کے ساتھ دفاعی اتحاد کے معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ معاہدے پبلک انکوائری کے شیڈول کے مطابق رپورٹ اکتوبر تک تیار کرنے سے قبل آسٹریلیا کے تین مختلف شہروں میں مزید چار سماعتیں منعقد کی جائیں گی۔ تحقیقات میں مختلف امور کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں یہ سوالات بھی شامل ہیں کہ آیا یہ معاہدہ آسٹریلیا کی خودمختاری کو متاثر کرے گا، کیا اس سے آسٹریلوی شہری زیادہ محفوظ ہوں گے، کیا ملک کو مجوزہ آبدوزیں مل سکیں گی اور جوہری فضلے کو کس طرح ذخیرہ کیا جائے گا۔اے یو کے یو ایس آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کے درمیان سہ فریقی سکیورٹی شراکت داری کا معاہدہ ہے۔







