اسلام آباد ۔ 30دسمبر (اے پی پی)پاکستان غذائی ضروریات کا صرف 33فیصد خوردنی تیل پیدا کرتا ہے جبکہ خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 67فیصد تیل درآمد کیا جاتا ہے۔ معروف زرعی تجزیہ کار ہارون احمد خان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سورج مکھی غیر روائیتی تیلدار اجناس میں اہمیت کی حامل ہے، جو تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ …
پاکستان غذائی ضروریات کا صرف 33فیصد خوردنی تیل پیدا کرتا ہے
اسلام آباد ۔ 30دسمبر (اے پی پی)پاکستان غذائی ضروریات کا صرف 33فیصد خوردنی تیل پیدا کرتا ہے جبکہ خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 67فیصد تیل درآمد کیا جاتا ہے۔ معروف زرعی تجزیہ کار ہارون احمد خان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سورج مکھی غیر روائیتی تیلدار اجناس میں اہمیت کی حامل ہے، جو تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق خوردنی تیل کی ضروریات کی تکمیل اور درآمدات میں کمی کیلئے پنجاب حکومت صوبہ میں سورج مکھی کی کاشت کاری کے فروغ کیلئے کاشتکاروں کو سورج مکھی کے بیج میں اعلیٰ قسم کا 40فیصد خوردنی تیل پایا جاتا ہے









