اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وفاقی سیکرٹری وزارت بحری امور رضوان احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی میں انفوفش ممبر ممالک کی حمایت جاری رکھے گا۔ یہ بات انہوں نے منگل کو انفوفش کے ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈکے 33ویں ورچوئل اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو سال 2020ءکے لئے انفوفش …
پاکستان ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی میں انفوفش ممبر ممالک کی حمایت جاری رکھے گا، وفاقی سیکرٹری وزارت بحری امور رضوان احمد کا انفوفش کے ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈکے ورچوئل اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وفاقی سیکرٹری وزارت بحری امور رضوان احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی میں انفوفش ممبر ممالک کی حمایت جاری رکھے گا۔ یہ بات انہوں نے منگل کو انفوفش کے ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈکے 33ویں ورچوئل اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو سال 2020ءکے لئے انفوفش کی چیئرمین شپ دی گئی تھی جس کے لئے سیکرٹری وزارت بحری امور رضوان احمدکو حکومتِ پاکستان نے نامزد کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رضوان احمد نے کہا کہ قدرت نے انسانیت کو مچھلی کے وافر وسائل سے نوازا ہے تاہم اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق عالمی سطح پر مچھلی کے تقریباً 90 فیصد ذخائر یا تو پہلے ہی مکمل طور پر ختم یا ضرورت سے زیادہ ماہی گیری کا شکار ہیں چونکہ انسانی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ، بڑھتی آبادی کی خوراک کی ضروریات پورا کرنے کے ذرائع تلاش کرنا دنیا بھر میں درپیش ایک سب سے اہم چیلنج ہے۔ ایقوا کلچر کے انسانی استعمال کیلئے مچھلی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنانے میں کردار کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ تکنیکی پیشرفت عام طور پر زیادہ موثر اور منافع بخش ماہی گیری کے عمل ، پیداوار میں فی یونٹ درکار جسمانی مشقت میں کمی اور وسائل تک بہتر رسائی کا باعث بنی ہے۔ اس سے ماہی گیری کے عمل کے فریم ورک کو تیار کرنے کی ضرورت کی نشاندہی ہوتی ہے ، پیداوار کے محفوظ اور زیادہ ماحول دوست طریقوں کے ساتھ ، فشینگ گیئر کی سلیکشن ، ویلیو چین کی ترقی، عالمی سطح پر کیچ اور کیچ کے بعد کی سہولیات میں کمی کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انفوفش کی کامیابی کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے ریمارکس دیئے کہ عالمی تنظیم کی حیثیت سے انفوفش نے ایشیاءپیسیفک اور اس سے آگے کی ماہی گیری کی صنعتوں کے لئے کامیابی کے 33 سال مکمل کر لئے ہیں۔ اب وہ ایک ایسی تنظیم بن گئی ہے جس نے ماہی گیری کی ٹیکنالوجی، ہینڈلنگ اور پروسیسنگ، آبی زراعت، ماحولیاتی علوم اور متعدد منصوبوں اور مشاورتوں کو شامل کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو کئی سالوں میں وسعت دی ہے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے انفوفش سے درخواست کی کہ وہ پاکستان میں اپنے پراجیکٹس کو خاص طور پر پروڈکٹ ویلیو چین کی ترقی اور بہتری، کیکڑے فارمنگ کی ترقی، بعد اور کیچ سے پہلے کے نقصانات کو کم کرنے کی مہارت اور حکمت عملی، پاکستان میں ویلیو ایڈیشن کی سہولت کو ترقی دینے کا عمل شروع کرے۔ماہی گیری کی مصنوعات کی ممکنہ مارکیٹ کے ساتھ مضبوط تعلق کو بھی ترویج دے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سکریٹری میری ٹائم امور کا کہنا تھا کہ "میں تمام ممبر ممالک کو یقین دلاتا ہوں کہ ماہی گیری کے شعبے کی ترقی میں انفوفش ممبر ممالک کی حمایت جاری رکھے گی۔ مجھے امید ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اس خطے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے گا ، جس کا نتیجہ بالآخر خطہ میں ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی کی صورت میں ہو گا۔ پاکستان، سری لنکا، تھائی لینڈ، فلپائن، بنگلہ دیش، فجی، ملائیشیا، مالدیپ، کمبوڈیا اور ایران سمیت 10 ممالک نے اور مبصرین ورلڈ فش سنٹر، این اے سی اے نے اجلاس میں شرکت کی۔








