پاکستان میں بجٹ شفافیت میں دو سال کے دوران 50 فیصد بہتری ریکارڈ

پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عوامی رسائی اور جوابدہی کے میدان میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے

اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عوامی رسائی اور جوابدہی کے میدان میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے اوپن بجٹ سروے 2025 کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور 2023 کے 30 پوائنٹس سے بڑھ کر 2025 میں 45 پوائنٹس ہو گیا جو صرف دو سال کے دوران 50 فیصد بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ سکور 45 پوائنٹس کی عالمی اوسط کے برابر ہے جبکہ خطے اور اہم ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان سے پیچھے ہیں۔اوپن بجٹ سروے 2025 کے مطابق پاکستان نے بجٹ شفافیت کے متعدد اہم شعبوں میں نمایاں بہتری حاصل کی۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 جبکہ عوامی شرکت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔اسی طرح سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی، جس کا سکور 52 تک پہنچ گیا۔

انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت اشاعت اور ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل میں زیادہ جامع معلومات کی فراہمی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا سکور 22 پوائنٹس ہے جو عالمی اوسط 17 اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط 18 پوائنٹس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت بجٹ سازی کے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو مزید موثر بنانے کی حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔مالیاتی شفافیت میں بہتری کے لیے بجٹ سے قبل اور بعد از بجٹ مشاورت، سٹیک ہولڈرز سے رابطے، مالیاتی معلومات کی بہتر فراہمی اور پارلیمانی نگرانی کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔حالیہ امریکی محکمہ خارجہ کی مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستان کے مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ان میں منظور شدہ بجٹ اور سالانہ اختتامی رپورٹ تک وسیع عوامی رسائی، متوقع آمدنی اور اخراجات کی جامع معلومات، عمومی طور پر قابل اعتماد بجٹ معلومات، آزادانہ آڈٹ اور عوامی نگرانی شامل ہیں۔تشخیص میں قدرتی وسائل کی تقسیم اور عوامی خریداری کے لیے شفاف فریم ورک سمیت خودمختار دولت فنڈ کے لیے مضبوط قانونی ڈھانچے کو بھی پاکستان کے مالیاتی نظام کی اہم خصوصیات قرار دیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق بجٹ شفافیت میں بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی دستیابی نہیں بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل کی وصولی، اخراجات اور حساب دہی کے بارے میں زیادہ واضح اور بروقت معلومات فراہم کرنا ہے۔بجٹ شفافیت میں اضافہ ادارہ جاتی ساکھ، مالیاتی نظم و ضبط، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔حکومت مالیاتی معلومات کو مزید بروقت، جامع اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانے کے ساتھ ساتھ بجٹ سازی کے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شرکت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔30 سے 45 پوائنٹس تک اضافہ، دو سال میں 50 فیصد بہتری -شفافیت سے جوابدہی، جوابدہی سے ساکھ اور ساکھ سے عوامی اعتماد کا سفر جاری ہے