پاکستان میں زیادہ پیداوار دینے والی، گرمی برداشت کرنے والی ٹماٹر کی نئی اقسام تیار کی جا رہی ہیں، غضنفر حماد

پاکستان میں ٹماٹر کی بار بار پیدا ہونے والی قلت پر قابو پانے کے لئے سبزیوں کے تحقیقی ادارے (ویجیٹیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) فیصل آباد کے سائنسدان زیادہ پیداوار دینے والی اور شدید گرمی برداشت کرنے والی مقامی ٹماٹر کی نئی اقسام تیار کر رہے ہیں

لاہور۔8جولائی (اے پی پی):پاکستان میں ٹماٹر کی بار بار پیدا ہونے والی قلت پر قابو پانے کے لئے سبزیوں کے تحقیقی ادارے (ویجیٹیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) فیصل آباد کے سائنسدان زیادہ پیداوار دینے والی اور شدید گرمی برداشت کرنے والی مقامی ٹماٹر کی نئی اقسام تیار کر رہے ہیں۔ویجیٹیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد کے پرنسپل سائنسدان غضنفر حماد نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت ایسی ہائبرڈ ٹماٹر اقسام تیار کر رہے ہیں جو زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکیں اور وائرل بیماریوں کے خلاف بھی مزاحمت رکھتی ہوں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نئی اقسام آئندہ دو سے تین سال میں تجارتی کاشت کے لئے متعارف کرا دی جائیں گی۔ان کے مطابق یہ اقسام ایسے ادوار میں کاشت کے لئے تیار کی جا رہی ہیں جب درجہ حرارت نسبتاً معتدل ہوتا ہے تاکہ منڈی میں ٹماٹر کی مسلسل فراہمی برقرار رہے اور کم پیداوار والے موسم میں قلت پر قابو پایا جا سکے۔غضنفر حماد نے بتایا کہ ویجیٹیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ مقامی چیری ٹماٹر کی اقسام بھی تیار کر رہا ہے جن کی کاشت اس وقت زیادہ تر درآمد شدہ بیج سے گھریلو باغبانی میں کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی چیری ٹماٹر کی اقسام پاکستانی صارفین کو مختلف ذائقوں، رنگوں اور سائز کے ٹماٹر فراہم کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹماٹر کی طلب سال بھر برقرار رہتی ہے لیکن پیداوار میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے باعث وقفہ وقفہ سے قلت پیدا ہوتی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں خصوصاً پنجاب میں جہاں ملک کی مجموعی ٹماٹر پیداوار کا صرف تقریباً 20 فیصد پیدا ہوتا ہے۔پاکستان میں سالانہ تقریباً 42 لاکھ ٹن ٹماٹر پیدا ہوتے ہیں تاہم ملک میں ٹماٹر پروسیسنگ کی صنعت ترقی نہ کرنے کے باعث تقریباً پوری پیداوار تازہ سبزی کے طور پر ہی استعمال ہو جاتی ہے۔غضنفر حماد کے مطابق پنجاب میں ٹماٹر کی کاشت آٹھ اضلاع، مظفرگڑھ، خوشاب، شیخوپورہ، ملتان، فیصل آباد، وہاڑی، خانیوال اور گوجرانوالہ میں مرکوز ہے۔ صوبہ اپریل سے جون تک منڈیوں کو ٹماٹر فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جون سے نومبر تک ٹماٹر کی فراہمی زیادہ تر خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے ہوتی ہے جبکہ دسمبر سے اپریل تک سندھ ملکی طلب پوری کرتا ہے تاہم شدید موسمی حالات اور سیلاب جیسی آفات اکثر سپلائی کے نظام کو متاثر کر دیتی ہیں جس سے شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔سبزی فروشوں کے مطابق پاکستان مقامی طلب اور رسد کے درمیان فرق پورا کرنے کے لئے عموماً پڑوسی ممالک خصوصاً ایران اور افغانستان سے ٹماٹر درآمد کرتا ہے۔

بادامی باغ سبزی منڈی کے انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل صدام اطہر خان نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ اس سال پاکستان ایران اور افغانستان، دونوں ممالک سے ٹماٹر درآمد نہیں کر سکاجس کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ جون کے دوران ٹماٹر کی قیمت 350 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی تھی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ زیادہ پیداوار دینے والی اور آف سیزن ٹماٹر کی نئی اقسام کی تیاری سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ ماہرین خوراک کا کہنا ہے کہ ٹماٹر جلد خراب ہونے والی سبزی ہے، جس کے باعث اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور سال بھر اس کی دستیابی برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔فیصل آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد دین نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کم پیداوار والے مہینوں میں ٹماٹر کی دستیابی یقینی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پیسٹ، چٹنی یا کیچپ کی صورت میں محفوظ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ پیداوار کے موسم، خصوصاً اپریل میں، ٹماٹر کو پہلے ابال کر اس کا چھلکا اور بیج الگ کئے جائیں، پھر اسے پیسٹ میں تبدیل کیا جائے۔

اس پیسٹ میں مناسب مقدار میں محفوظ رکھنے والا جزو شامل کرکے تقریباً چار ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر فریج میں رکھا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر احمد دین کے مطابق اس طرح محفوظ کیا گیا ٹماٹر پیسٹ سال بھر مختلف کھانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا بعد میں اسے کیچپ اور دیگر مصنوعات کی تیاری کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔