بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات قومی المیہ ہیں، مجرموں کو فوری اور عبرتناک سزا دی جائے، آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد

کیتھولک ڈائیوسیز اسلام آباد-راولپنڈی کے بشپ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سنگین مسئلہ فوری اور مؤثر اقدامات کا متقاضی ہے۔ بدھ کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):کیتھولک ڈائیوسیز اسلام آباد-راولپنڈی کے بشپ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سنگین مسئلہ فوری اور مؤثر اقدامات کا متقاضی ہے۔ بدھ کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اغوا سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم ہے جس کے بعد بدفعلی اور زیادتی کے واقعات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں 53 فیصد بچیاں ہیں جبکہ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔آرچ بشپ نے سرگودھا کی سات سالہ بچی منتہیٰ زہرہ کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعہ سمیت کراچی، سوات اور ملک کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے خلاف اس نوعیت کے جرائم پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف جرائم انسانی وقار کی بدترین پامالی ہیں اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مہذب، پرامن اور انصاف پر مبنی نہیں کہلا سکتا جب تک اس کے بچے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہوں۔

انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، چائلڈ پروٹیکشن محکموں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری، شفاف اور سخت کارروائی کی جائے اور مجرموں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں قانون پر کمزور عملدرآمد، غفلت یا کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے بتایا کہ کیتھولک ڈائیوسیز اسلام آباد-راولپنڈی نے رواں سال کو ’’بچوں کا سال‘‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد بچوں کے وقار، تحفظ، تعلیم اور ہمہ جہت فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چرچ بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے خاندانوں، تعلیمی اداروں، گرجا گھروں اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔انہوں نے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے تحفظ کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھیں، بچوں سے اعتماد کا رشتہ قائم کریں، انہیں ذاتی تحفظ سے متعلق آگاہ کریں اور مشتبہ واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ بچوں کا تحفظ صرف خاندانوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر بچے کو ایسا معاشرہ فراہم کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی جہاں وہ خوف سے آزاد، عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے اور امید کے ساتھ اپنے مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔

مزید خبریں