پاکستان میں زیتون کی کاشت کا سفر بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا عالمی یوم زیتون کے موقع پرخصوصی پیغام

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت کا سفر بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہ شعبہ ملک کی پائیدار زراعت کے لیے نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔عالمی یوم زیتون کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان زیتون کی کاشت …

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت کا سفر بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہ شعبہ ملک کی پائیدار زراعت کے لیے نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔عالمی یوم زیتون کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان زیتون کی کاشت کے ذریعے نہ صرف پائیدار زرعی ترقی کی جانب گامزن ہے بلکہ اس سے زمین کی بحالی، پانی کے محفوظ استعمال اور بہتر ماحولیاتی توازن کے مقاصد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا وسیع جغرافیہ زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہے جس سے زیتون کی صنعت کے لیے نئے افق کھل رہے ہیں اور لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔

رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ زیتون کی کاشت نے پاکستان کی دیہی معیشت میں نئی روح پھونک دی ہے، اور ملکی سطح پر تیار ہونے والا زیتون کا تیل بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے جنگلی زیتون کے وسائل کو جدید تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی پراسیسنگ کے ذریعے ایک مضبوط صنعت میں تبدیل کر دیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ زیتون کی صنعت میں ترقی عالمی شراکت داری اور تکنیکی تعاون کا نتیجہ ہے۔ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر زیتون کی پیداوار، معیار اور ویلیو ایڈیشن کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف زیتون کے تیل کی عالمی برآمدات میں اپنا حصہ بڑھانا ہے جس سے معاشی استحکام اور تجارتی توازن میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اپنے پیغام میں رانا تنویر حسین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ زیتون کی بڑے پیمانے پر کاشت موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی ایک موثر حکمت عملی بن چکی ہے۔

اس صنعت کے فروغ سے نہ صرف ماحول دوست زراعت کو تحفظ ملا ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک پائیدار، سبز اور محفوظ مستقبل کی بنیاد بھی مزید مستحکم ہوئی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ زیتون کی صنعت سے نہ صرف ملک میں غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ پاکستان جلد زیتون کے تیل کی عالمی صنعت میں قابل ذکر مقام حاصل کرے گا۔