پاکستان میں غربت میں کمی اورمعاشی طورپرکمزورطبقات کے تحفط کیلئے پائیدار اورعوام پرمبنی اصلاحات کی ضرورت ہے، عالمی بینک

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):عالمی بینک نے پاکستان میں غربت میں کمی اورمعاشی طورپرکمزورطبقات کے تحفط کیلئے پائیدار اورعوام پرمبنی اصلاحات کی ضرورت پرزوردیاہے۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے ’’خوشحالی کی جانب رفتار کی بحالی: پاکستان میں غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ ‘‘کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2001-02میں پاکستان میں غربت کی شرح 64.3فیصد تھی جس میں …

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):عالمی بینک نے پاکستان میں غربت میں کمی اورمعاشی طورپرکمزورطبقات کے تحفط کیلئے پائیدار اورعوام پرمبنی اصلاحات کی ضرورت پرزوردیاہے۔

یہ بات عالمی بینک کی جانب سے ’’خوشحالی کی جانب رفتار کی بحالی: پاکستان میں غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ ‘‘کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2001-02میں پاکستان میں غربت کی شرح 64.3فیصد تھی جس میں مسلسل کمی آئی اور2018-19میں یہ شرح 21.9فیصد تک آئی۔

تاہم کورونا کی عالمگیروباء،افراط زرکی شرح میں اضافہ، سیلاب اورمعاشی دباؤکی وجہ سے 2020ء کے بعد سے غربت کی شرح میں اضافہ ہونا شروع ہوا،کھپت پرمبنی ترقی کے ماڈل کابھی اس میں کردار رہاہے۔

رپورٹ میں غریب اور معاشی طورپرکمزور خاندانوں کے تحفظ، روزگار کے مواقع بہتر بنانے اورسب کیلئے بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پائیدار اور عوامی مفاد و مرکزیت پرمبنی اصلاحات کی ضرورت پرزوردیاگیاہے۔

پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاابازار نے بتایا کہ پاکستان کیلئے اپنی مشکل سے حاصل کردہ غربت میں کمی کے نتائج کو محفوظ رکھنے کیلئے اصلاحات کے عمل میں تیزی لانا اہمیت کاحامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے، عوام وخطوں میں سرمایہ کاری، جھٹکوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے، مالیاتی نظم و ضبط کو ترجیح دینے اور بہتر فیصلوں کے لیے موثر ڈیٹا سسٹمز تیارکرکے پاکستان میں غربت میں کمی کے سفر کو دوبارہ درست راستے پر ڈالاجا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں غربت میں کمی کی سب سے بڑی وجہ زرعی شعبے سے ہٹ کر غیر زرعی شعبوں کی آمدنی میں اضافہ ہے، زیادہ گھرانے کھیتی باڑی سے نکل کر کم معیار کی سروسز کی نوکریوں کی طرف چلے گئے تاہم سست اور غیر مساوی ڈھانچہ جاتی تبدیلی نے تنوع، روزگار کے مواقع اور جامع ترقی کے عمل کو روکے رکھا جس کے نتیجہ میں مختلف شعبوں میں کم پیداواری صلاحیت نے آمدنی میں اضافے کے امکانات کو محدود کر دیا۔

ملک میں 85 فیصد سے زائد نوکریاں غیر رسمی ہیں اور خواتین اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افرادی قوت سے باہرہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 فیصد بچے کم غذائیت کے مسئلہ کا شکار ہیں اور ہر چار میں سے ایک بچہ پرائمری سکول سے باہر ہے، پرائمری سکول میں جانے والے 75 فیصد بچے پانچویں جماعت کے اختتام تک ایک سادہ کہانی بھی نہیں پڑھ یا سمجھ سکتے۔

رپورٹ کے مطابق 2018ء میں صرف نصف گھرانوں کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل تھی جبکہ 31 فیصدگھرانوں کے پاس محفوظ نکاسی آب کی سہولت بھی نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فلاح و بہبود کے شعبہ میں نظامی، پیچیدہ اور مستقل علاقائی عدم مساوات موجود ہیں۔

دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں اب بھی دوگنی ہے اور کئی اضلاع جو دہائیوں پہلے پسماندہ تھے آج بھی پیچھے ہیں۔ منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے زیادہ بھیڑ والی آبادیاں بن گئی ہیں جن میں معیار زندگی کم ہے۔

رپورٹ کی مرکزی مصنفہ اور عالمی بینک کی سینئر اکانومسٹ کرسٹینا ویزر نے بتایا کہ ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کی وجہ سے پاکستان میں غربت میں کمی کے حوالہ سے پیش رفت کیلئے خطرات موجودہیں، خدمات تک رسائی بڑھانے، گھرانوں کو جھٹکوں سے محفوظ رکھنے، غربت کی لکیرسے نیچے زندگیاں بسرکرنے والی آبادی کیلئے بہتر نوکریاں پیدا کرنے کیلئے صلاحی اقدامات ضروری ہے اس سے غربت کے چکر کو توڑنے اور پائیدار و جامع ترقی ممکن ہوسکے گی۔

رپورٹ میں انسانی وسائل کی کمی دور کرنے کیلئے لوگوں اورخطوں میں سرمایہ کاری کرنے، صحت، تعلیم، رہائش، پانی اور صفائی جیسی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مقامی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے،گھرانوں کو جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ لچکدار بنانے کے لیے سوشل سیفٹی نیٹس کو زیادہ موثر، جامع اور حساس بنانے، میونسپل فنانس کو بہتر بنانے، غیر موثر سبسڈیز کو ختم کرنے اور غریب ترین طبقات کے لیے ہدف پرمبنی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے۔

رپورٹ میں ڈیٹا سسٹمز میں بروقت سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پربھی زوردیاگیاہے تاکہ فیصلوں کو بہتر بنایا جا سکے، وسائل کو درست جگہ پہنچایا جا سکے اور نتائج کو موثر طریقے سے جانچا جا سکے۔

مزید خبریں