صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کراچی میں تقریب سے خطاب

کراچی ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ شمسی توانائی سستا ترین توانائی کے حصول کا ذریعہ ہے، پاکستان میں مقامی سطح پر سولر پینل تیار کرنے کا سلسلہ شروع ہونا چاہئے،پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ہمیں اپنے بچوں کو عالمی حدت کے خطرات کے حوالے سے آگاہ کرنا ہوگا، پاکستانی دنیا میں خیرات کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہیں۔ ہفتہ …

کراچی ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ شمسی توانائی سستا ترین توانائی کے حصول کا ذریعہ ہے، پاکستان میں مقامی سطح پر سولر پینل تیار کرنے کا سلسلہ شروع ہونا چاہئے،پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ہمیں اپنے بچوں کو عالمی حدت کے خطرات کے حوالے سے آگاہ کرنا ہوگا، پاکستانی دنیا میں خیرات کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہیں۔ ہفتہ کو کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ شمسی توانائی سے 10 ہزار گھروں کو روشن کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں ، یہ ایک کارخیر ہے اور اس میں دعائیں ملتی ہیں، اللہ تعالیٰ جس کورزق کی کشادگی عطاء کرتا ہے وہ اس میں سے خیرات کرتا ہے اور یہی خیرات اصل ورثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے اپنے ایک رکن قومی اسمبلی ساتھی کی وفات پر ان کے بچوں سے تعزیت کررہے تھے تو انہیں بتایا کہ اصل ورثہ مال ودولت نہیں بلکہ آپ کے والد کا اچھا اخلاق اور نیکیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیرات کرنے کے حوالے سے کراچی کا شہر پورے پاکستان میں سبقت لے جانے والا شہر ہے اور کراچی کے لوگ سب پر سبقت لے جانے والے لوگ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری نہ کرسکی جس کی وجہ سے خلیج بڑھ گئی جس کی وجہ سے ایدھی جیسے لوگ سامنے آئے اور سیلانی جیسے ویلفیئر ٹرسٹ بنے۔ صدرمملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک حساس قوم ہے اور اس میں بہت زیادہ جذبہ ہے، جی سولر اور گرین کریسنٹ مل کر شمسی توانائی سے روشنی پھیلا رہے ہیں، سولر توانائی کا سستا ترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبی ذخائر بنانا اب ماحولیات پربھی بڑا بوجھ ہے تاہم آبی ذخائر پانی ذخیرہ کرنے کیلئے بنائے جانے کا جواز موجود ہے، رن آف ریور پراجیکٹ اور ڈیم سے بجلی کا حصول ممکنات میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نجی شعبہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملکی سطح پر سولر پینل تیار کرنے کا سلسلہ شروع کریں اگر ہم اربوں روپے موبائل فونز پرخرچ کرسکتے ہیں تو اس شعبہ پر کیوں نہیں۔