پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں اہم پیش رفت،ٹوکنائزیشن کے فروغ کے لیے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی اور یو اے ای وفد کا اعلیٰ سطح کا اجلاس

اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس اور ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے وزیراعظم آفس میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رئیل اسٹیٹ، سرکاری اثاثوں اور قرض جاتی مالیاتی آلات کی ٹوکنائزیشن کے امکانات اور طریقۂ کار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ایس آ ئی …

اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس اور ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے وزیراعظم آفس میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں رئیل اسٹیٹ، سرکاری اثاثوں اور قرض جاتی مالیاتی آلات کی ٹوکنائزیشن کے امکانات اور طریقۂ کار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ایس آ ئی ایف سی حکام کے مطابق اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے عالمی شہرت یافتہ نجی رئیل اسٹیٹ و سرمایہ کاری ادارےڈی ای ایم اے سی گروپ اور اس کے ریگولیٹڈ پلیٹ فارم پرائپکو کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈیماک گروپ عالمی سطح پر رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے جدید منصوبوں کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی نے بطورِ خاص شرکت کی، جو پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ڈیجیٹل معیشت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مضبوط تعاون کی عکاس ہے۔اس موقع پر بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان میں ٹوکنائزیشن کو ایک قومی معاشی محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے غیر فعال اثاثوں کو قابلِ سرمایہ کاری وسائل میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹوکنائزیشن سے رئیل اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں میں شفاف، محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کی پاکستان میں دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جو ملک کے روشن ڈیجیٹل اور معاشی مستقبل کی نوید ہے۔