اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے، روزانہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن اضلاع میں کیسز زیادہ ہیں وہاں کچھ پابندیوں کے لئے غور کیا جا رہا ہے، کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کار میں کمی بھی زیر غور ہے۔ این سی او سی میں میڈیا …
پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے، روزانہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے، روزانہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن اضلاع میں کیسز زیادہ ہیں وہاں کچھ پابندیوں کے لئے غور کیا جا رہا ہے، کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کار میں کمی بھی زیر غور ہے۔ این سی او سی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلائو جاری ہے، یہ چیز واضح ہوتی چلی جا رہی ہے اور اس کے اعدادو شمار میں بتدریج واضح اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں اس وائرس کی دوسری لہر شروع ہوچکی ہے۔ چار سے پانچ ہفتے قبل روزانہ کی بنیاد پر چار سے پانچ سو کیسز ہوتے تھے جبکہ اس وقت ان کی تعداد روزانہ سات سو سے اوپر آچکی ہے۔ کورونا کے ذریعے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں میں یہ دیکھا گیا کہ ہر سوٹیسٹ میں سے دو فیصد تک ٹیسٹ پازیٹو آنے کی شرح نوٹ کی گئی اب اس میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی شرح اب اڑھائی سے تین فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بطور قوم ہمیں جس طرح کی احتیاط کرنی چاہئے تھی ہم اس طرح سے نہیں کررہے جیسے کہ اس وبا کے پھیلائو کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہمیں کچھ پابندیوں کو سخت کرنا ناگزیر ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہم مقامی لیول سے اس کو پلان کریں گے۔ ان شہروں یا اضلاع میں جہاں اس بیماری کی شرح زیادہ ہے وہاں اس چیز پر فوکس زیادہ ہوگا۔ جن پابندیوں کے بارے ہم سوچ رہے ہیں و ہ اس طرح سے ٹارگٹ کی جائیں تاکہ جہاں بیماری کا پھیلائو سب سے زیادہ ہے ادھر ہم زیادہ فوکس کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات زیر غور ہیں۔ ابتدائی طور پر ہم مقامی انتظامیہ سے درخواست کریں گے کہ جو ایس او پیز کی خلاف ورزی کررہے ہیں جن میں ہجوم والی جگہوں پر ماسک کا استعمال چاہے دکانیں ، ٹرانسپورٹیشن ، شادی و دیگر تقریبات جہاں عمل نہیں ہورہا ان پر اضافی سختی کی جائے جن میں جرمانے و دیگر اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا فوکس اعدادو شمار کی بنیاد پر ہوگا۔ ممکن ہے کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کارمیں کچھ کمی لائی جائے۔ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور یہ ایک بتدریج پراسس ہوگا اور اسے مرحلہ وار دیکھا جائے گا۔ اس حوالے سے این سی او سی اور صوبوں کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کی جارہی ہے۔ ایک دو دن میں اس حوالے سے واضح ہدایات ، گائیڈ لائنز سامنے آجائیں گی۔ ایک ہاٹ لائن قائم کی جارہی ہے کہ جہاں ہمارے شہری ایس اوپیز کو فالو نہیں کررہے وہ اس پر رپورٹ کر سکیں گے تاکہ اس پر ایکشن لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی پابندی مشکل ہوتی ہے اور کوئی حکومت ایسا نہیں کرنا چاہتی ،لیکن اب یہ ایک ایسا موقع آگیا ہے کہ ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس بارے صوبوں سے مزید مشاورت کر کے اس کی مزید تفصیلات کل بتائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم احتیاط کو اپنا لیں گے تو ہم اس لہر پر قابو پر پاکر اس چیلنج سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔







