اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں وائرس کی موجودگی میں مجموعی طور پر کمی آئی ہےلیکن ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، خاص طور پر حالیہ سیلاب کے بعد پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بچوں کو پولیو سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نیشنل ایمرجنسی …
پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں وائرس کی موجودگی میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے، عائشہ رضا فاروق

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں وائرس کی موجودگی میں مجموعی طور پر کمی آئی ہےلیکن ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، خاص طور پر حالیہ سیلاب کے بعد پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بچوں کو پولیو سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک بھر کے 159 اضلاع میں 7روزہ قومی پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، تاکہ ہر بچہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ، بچوں کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لئے انہیں پولیو ویکسین کے ساتھ وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی جائے گی۔1994 میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک، گھر گھر پولیو ویکسی نیشن مہمات کے نتیجے میں پولیو کے سالانہ کیسز میں 99.6 فیصد کمی آئی ہے، جو 20,000 سالانہ کیسز سے کم ہو کر 2024 میں 74 رہ گئی ہے اور رواں سال اب تک 29 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور اس کے شراکت دار اداروں نے ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز کو متحرک کیا ہے، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔ یہ مہم 13 سے 19 اکتوبر تک ملک کے تمام حصوں میں جاری رہے گی جبکہ جنوبی خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع میں یہ مہم 20 سے 23 اکتوبر تک منعقد کی جائے گی۔یہ رواں سال کی چوتھی قومی پولیو مہم ہےجس کے دوران پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچے، سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچے، خیبرپختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد بچے، بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچے، آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچے، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد بچے، اور اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
یہ مہم ایسے وقت میں شروع کی جا رہی ہے جب ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے باعث رواں سال اب تک 29 بچے متاثر ہو چکے ہیں۔ حالیہ سیلابوں نے ملک کے کئی حصوں میں صفائی کے نظام کو نقصان پہنچایا، آبادیوں کی نقل مکانی اور صحت کی خدمات میں تعطل پیدا کیا، جس سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ملک بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی اور ان کے تحفظ کے لیے یہ مہم حکومتِ پاکستان کے عزم کی عکاس ہےجو بچوں کی صحت و بہبود کو یقینی بنانے اور ایک پولیو سے پاک مستقبل کے لیے عالمی و قومی وعدوں کی تکمیل پر مرکوز ہے۔
میں والدین سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ پولیو ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو معذوری سے بچانے والے یہ قطرے لازمی پلوائیں۔انسدادِ پولیو مہم کے دوران اور بعد میں، صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 اور واٹس ایپ ہیلپ لائن 03467776546 والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب رہیں گی۔ یہاں وہ نہ صرف پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی اطلاع دے سکیں گے بلکہ دیگر متعلقہ معلومات بھی حاصل کر سکیں گے۔








