پاکستان میں ہائی ایفی شینسی ایریگیشن سسٹمز سے آبپاشی کا تناسب ایک فیصد سے کم ہے ، ملک میں کاشتکاری کیلئے زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے کچے کھالوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،انٹر نیشنل کمیشن آن ایریگیشن اینڈ ڈرینج

پاکستان میں ہائی ایفی شینسی ایریگیشن سسٹمز (ایچ ای آئی ایس)سے آبپاشی کا تناسب ایک فیصد سے کم ہے ، ملک میں کاشتکاری کیلئے زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے کچے کھالوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):پاکستان میں ہائی ایفی شینسی ایریگیشن سسٹمز (ایچ ای آئی ایس)سے آبپاشی کا تناسب ایک فیصد سے کم ہے ، ملک میں کاشتکاری کیلئے زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے کچے کھالوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

انٹر نیشنل کمیشن آن ایریگیشن اینڈ ڈرینج رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آبپاشی کے نظام کے تحت آبپاشی کیلئے پانی نہروں اور کھالوں کے ذریعہ کھیت تک پہنچتا ہے ، پنجاب میں 58 ہزار سے زیادہ بنیادی کھالوں میں سے 7 کھال کچے ہیں جبکہ 51 ہزار کھال جزوی طور پر پکے کئے گئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں آبپاشی کے نظام کیلئے استعمال ہونےوالے کی مجموعی لمبائی سے صرف 30 فیصد کھالے پختہ ہیں ، پاکستان میں ڈرپ ، سپر نکلر اور این گن وغیرہ کے آبپاشی کے نظام سے صرف ایک فیصد رقبہ سیراب کیا جاتا ہے جبکہ چین میں یہ تناسب 17 فیصد ، ایران میں 24 فیصد اور ترکیہ میں 38 فیصد ہے ۔ ملک میں کھیتوں کو سیراب کرنے کیلئے زیادہ تر آبپاشی کے روایتی طریقوں اور نظام پر انحصار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پانی کے ضیاع کے علاوہ پیداوار بھی متاثر ہور ہی ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روایتی نظام آبپاشی سے تقریباً 50 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے ۔ انٹر نیشنل کمیشن آن ایریگیشن اینڈ ڈرینج کے مطابق روایتی نظام آبپاشی کے باعث پانی کے ضیاع کے نتیجہ میں زرعی شعبہ کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور آبی قلت کے نتیجہ میں زیر کاشت رقبہ میں کمی کے خدشات کا بھی سامنا ہے ۔ 7ویں ایگریکلچر سینسز 2024 کے مطابق پنجا ب میں اوسط کھیت کا رقبہ 6.1 ایکڑ ہے جبکہ آبپاشی کے روایتی چینلز اور کھالوں کے زیر استعمال 2 تا 2.5 فیصد رقبہ ہے ۔ صوبہ میں زیر کاشت مجموعی رقبہ 29.64 ملین ایکڑ ہے جس میں آبپاشی کے نظام کے باعث 0.741 ملین ایکڑ رقبہ پر کاشت نہیں کی جاسکتی ۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں بالخصوص پنجاب میں آبپاشی کے روایتی نظام (کھالوں) وغیرہ کو پختہ اور آبپاشثی کے جدید ٹیکنالوجیز سے استفادہ کیا جائے تو نہ صرف پانی کے ضیاع پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پانی کی فی کس دستیابی اور زرعی شعبہ کی کارکردگی میں بھی خاطر خواہ اضافہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف قومی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے بلکہ دیہی معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی ۔