وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار نے کہا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ہائی سینس (Hisense) کی پاکستان میں آمد صنعتی مستقبل پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے،
پاکستان میں ہائی سینس کی آمد صنعتی مستقبل پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے، ہارون اختر خان

مزید خبریں
لاہور۔6جون (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار نے کہا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ہائی سینس (Hisense) کی پاکستان میں آمد صنعتی مستقبل پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے،
پاکستان صرف ایک منڈی نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا مینوفیکچرنگ حب بن رہا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ایکسپو سینٹر میں ایئرلنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کی جانب سے منعقدہ ہائی سینس کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سی ای او ایئر لنک مظفر پراچہ، صدر ہائی سینس مسٹر فن سمیت کاروباری شخصیات، صنعتکاروں اور ٹیکنالوجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ہائی سینس کی پاکستان میں سرمایہ کاری عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان صرف ایک صارف منڈی نہیں بلکہ پیداوار، جدت، کاروباری صلاحیتوں اور صنعتی ترقی کا ابھرتا ہوا مرکز بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی سینس اور ایئرلنک کے درمیان شراکت داری عالمی ٹیکنالوجی، مقامی مینوفیکچرنگ، پاکستانی ہنرمند افرادی قوت اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے ویژن کا بہترین امتزاج ہے۔ ہارون اختر خان نے دونوں اداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پائیدار خوشحالی صرف ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہیں بلکہ اس کی تیاری، جدت اور برآمدات سے حاصل ہوتی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ایک ایسی معیشت کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے جو پیداواری، مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ ہائی سینس اور ایئرلنک کا اشتراک اسی ویژن کا عملی نمونہ ہے جو ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کی ترقی، صنعتی بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے سندر اسپیشل اکنامک زون میں قائم ایئرلنک کی جدید مینوفیکچرنگ سہولت کو پاکستانی کاروباری صلاحیتوں اور جدت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی فیکٹریاں صرف پیداواری مراکز نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، اختراع اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے مراکز بھی ہیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والا ہر ٹیلی ویژن اور ہر ایئر کنڈیشنر درآمدی انحصار میں کمی، زرمبادلہ کے تحفظ، صنعتی استعداد میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے حکومت کے صنعتی شعبے کی ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی صنعتی پالیسی کے تحت صنعتی مسابقت، سرمایہ کاری، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ قومی ٹیرف پالیسی پیداواری لاگت میں کمی اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں معاون ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریگولیٹری گلوٹین اقدام کے تحت غیر ضروری قواعد و ضوابط ختم کیے جا رہے ہیں تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو اور سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سرمایہ کاری، شراکت داری اور جدت کے لیے مکمل طور پر تیار اور حکومت سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ہارون اختر خان نے پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی سینس اور ایئرلنک کی شراکت داری دوطرفہ تعلقات کے نئے مرحلے کی عکاسی کرتی ہے جو صنعتی ترقی، جدید مینوفیکچرنگ اور کاروباری روابط کے فروغ پر مبنی ہے۔ انہوں نے ایئرلنک کی جانب سے 2,500 سے زائد افراد، خصوصا خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے ساتھ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، جدید الیکٹرانکس، ڈیجیٹل تجارت، آٹومیشن اور قابلِ تجدید توانائی جیسی جدید ٹیکنالوجیز دنیا بھر میں صنعتوں کو تبدیل کر رہی ہیں اور پاکستان نے ان تبدیلیوں کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائی سینس کی پاکستان میں لانچنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک درآمدی معیشت سے نکل کر پیداواری اور صنعتی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے، پاکستان صرف ایک منڈی نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا مینوفیکچرنگ حب بن رہا ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت افرادی قوت، بے شمار مواقع اور واضح ویژن موجود ہے، ملک کا مستقبل ان مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور مواقع سے وابستہ ہے جو ہم اپنے لوگوں کے لیے پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صنعت، جدت اور خوشحالی کا مستقبل ہے، جو میڈ اِن پاکستان کی بنیاد پر استوار ہوگا۔ تقریب سے سی ای او ایئر لنک مظفر پراچہ، صدر ہائی سینس مسٹر فن نے بھی خطاب کیا۔








