پاکستان میں 14.7 ملین افرادی قوت بلا معاوضہ کام کرتی ہے، جن میں 5.9ملین مرد اور 8.8 ملین خواتین کارکن شامل ہیں۔ 50 فیصد خواتین کارکن بغیر معاوضہ کے اپنے خاندانوں کی مدد کرتی ہیں۔
پاکستان میں 14.7 ملین افرادی قوت بلا معاوضہ کام کرتی ہے، 5.9ملین مرد ، 8.8 ملین خواتین کارکن شامل ہیں، تجزیاتی رپورٹ
اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):پاکستان میں 14.7 ملین افرادی قوت بلا معاوضہ کام کرتی ہے، جن میں 5.9ملین مرد اور 8.8 ملین خواتین کارکن شامل ہیں۔ 50 فیصد خواتین کارکن بغیر معاوضہ کے اپنے خاندانوں کی مدد کرتی ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ریسرچر نبیلہ کنول نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ لیبر فورس سروے 2024 کے مطابق 5.9 ملین مرد اور 8.8 ملین خواتین کارکن بلا معاوضہ کام کرتے ہیں جو پاکستان کی پیداواری معیشت کا باقاعدہ حصہ ہیں لیکن ان کی خدمات کے عوض کسی قسم کا معاوضہ نہیں ملتا۔ دوسری جانب بغیر اجرت کے کام کرنے والے کارکنوں کا تعلق نان مارکیٹ سرگرمیوں سے ہے۔
اس طرح کی خدمات عموماً گھر میں ہی سرانجام دی جاتی ہیں جن سے اہل خانہ ہی مستفید ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لیبر فورس سروے میں 14 اقسام کی مختلف خدمات کو بلا معاوضہ کام کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن میں کوکنگ، صفائی ستھرائی، بزرگ اہل خانہ کی دیکھ بھال ، پینے کا پانی لانا ، جانوروں کی دیکھ بھال سمیت دیگر گھریلو اقسام کے کام شامل ہیں۔ نبیلہ کنول نے پائیڈ کی ایک ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کام کرنے کی عمر کی تین چوتھائی خواتین روایتی معاشی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتیں جبکہ 76 فیصد خواتین ہر ہفتہ نان مارکیٹ گھریلو سرگرمیاں سرانجام دیتی ہیں۔
وہ کام تو کرتی ہیں لیکن ان کو افرادی قوت میں شمار نہیں کیا جاتا۔ رپورٹ کے مطابق مرد کارکنوں کے مقابلہ میں خواتین نان مارکیٹ گھریلو کام کاج میں 2 سے 10 گنا زیادہ وقت صرف کرتی ہیں اور خصوصاً 2.1 فنا زیادہ دیکھ بھال کا کام کرتی ہیں۔ مزید برآں خواتین گھریلو مصروفیات بشمول کھانا بنانے ، صفائی ستھرائی اور گھر کی دیکھ بھال کے کاموں میں 9 گنا زیادہ وقت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بلا اجرت کام کرنے والے کارکنوں کی مندرجہ بالا دونوں اقسام پاکستان میں فارغ رہنے والے افرادی قوت کے فلسفہ کی نفی کرتی ہیں اور بالخصوص خواتین کے حوالہ سے کام نہ کرنے کے ابہام کو بھی دور کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کام کرنے کی عمر کی عورتوں کا تقریباً 78 فیصد حصہ پیداواری سرگرمیوں میں شراکت دار ہے۔
رپورٹ کے مطابق گھریلو مصروفیات کی وجہ سے خواتین کارکنوں کے پاس اجرت پر پیداواری مصروفیات میں شرکت کے حوالہ سے بہت کم وقت بچتا ہے۔نبیلہ کنول نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ بڑی تعداد میں بلا معاوضہ خدمات سرانجام دینے والے مردوں اور خواتین پر مشتمل افرادی قوت کو بھی پیداواری سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے جس سے قومی معیشت کے درست حجم کا پتہ چل سکے گا اور بچوں کی فلاح و بہبود، دیہی علاقوں کی ترقی اور بہتری ، قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ، واٹر سپلائی اور موثر بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے حوالہ سے فنڈز مختص کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں کی بہتری اور ترقی سے نہ صرف دیہی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ قومی معیشت کی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔









