صحت کے ماہرین نے پاکستان میں ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، مریضوں پر مرکوز علاج کو فروغ دینے اور کمیونٹی کی سطح پر خدمات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی خدمات درکار ہیں۔عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر ماہرین نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار …
پاکستان میں 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی سہولیات درکار ہیں، ماہرین کا معیاری علاج تک رسائی بہتر بنانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):صحت کے ماہرین نے پاکستان میں ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، مریضوں پر مرکوز علاج کو فروغ دینے اور کمیونٹی کی سطح پر خدمات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی خدمات درکار ہیں۔عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر ماہرین نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو علاج کے عمل میں فعال شریک بنایا جائے اور ان کے تجربات کو صحت کی پالیسیوں اور خدمات کی تشکیل میں اہمیت دی جائے۔سینئر ماہرِ امراضِ نفسیات ڈاکٹر فرید طاہر نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے متاثرہ افراد کو علاج کے غیر فعال وصول کنندگان کے بجائے اپنی صحت یابی کے عمل میں فعال شریک سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو درپیش مشکلات، رکاوٹوں اور ضروری معاونت سے متعلق ان کے تجربات کو خدمات اور پالیسیوں کی تشکیل میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ ذہنی صحت کی سہولیات کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور ہمدردانہ بنایا جا سکے۔ماہرِ صحتِ عامہ ڈاکٹر نعمان صداقت نے کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات بڑھانے اور نفسیاتی یا ذہنی امراض کے علاج کے حصول سے وابستہ سماجی بدنامی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کی خدمات صرف ہسپتالوں اور خصوصی اداروں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ مقامی سطح پر معاونت، تربیت یافتہ طبی عملے، خاندانی مشاورت اور مریضوں کو متعلقہ مراکز تک پہنچانے کے مؤثر نظام کے ذریعے بروقت علاج ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر فائزہ تسلیم نے کہا کہ ذہنی صحت کے پروگراموں میں مریضوں کی عزتِ نفس، رازداری اور ذاتی تجربات کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بات سننا پہلا قدم ہے، تاہم ان کی شمولیت کو بہتر خدمات، باہمی معاونت کے نیٹ ورکس اور امتیازی سلوک کے خلاف مؤثر تحفظ کی صورت میں عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کو مستند ماہرین کی کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ملک میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریباً 0.19 ماہرِ امراضِ نفسیات دستیاب ہیں، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ اوسط سات فی ایک لاکھ افراد ہے۔وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نے ضرورت مند افراد کو ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-2035 متعارف کرائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکم اور 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقدہ ذہنی صحت سربراہی اجلاس میں بالمشافہ اور آن لائن تقریباً 800 شرکا نے شرکت کی جن میں ذہنی صحت کے ماہرین، ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار شامل تھے۔اجلاس میں جامع ذہنی صحت ایکشن پلان 2030 پر پیش رفت کے لیے شواہد پر مبنی اقدامات کی نشاندہی پر توجہ دی گئی۔ یہ بین الاقوامی فریم ورک عالمی ادارۂ صحت کی رکن ریاستوں کی جانب سے منظور کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتِ حال ہنگامی توجہ کی متقاضی ہے اور اس سلسلے میں ہر وزارت اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک کے عوام کے لیے محفوظ اور صحت مند ماحول تشکیل دیا جا سکے۔انہوں نےکہا کہ قومی پالیسی کا مقصد عملی اقدامات کے ذریعے ذہنی صحت کی سہولیات کو خاندانوں کے قریب لانا ہے، جس کے تحت اسکولوں، بنیادی مراکزِ صحت اور کمیونٹی کی سطح پر خدمات کو فروغ دیا جائے گا تاکہ لوگ بروقت، عزت و احترام کے ساتھ معاونت حاصل کر سکیں۔








