وزیراعظم کےکوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبرپختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ناقص طرزِ حکمرانی، مالی بدانتظامی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ہفتہ کووفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی 34 جامعات میں سے 18 دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں جبکہ وائس چانسلرز کی عدم موجودگی کے …
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ناقص طرزِ حکمرانی، مالی بدانتظامی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے، اختیار ولی خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کےکوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبرپختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ناقص طرزِ حکمرانی، مالی بدانتظامی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ہفتہ کووفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی 34 جامعات میں سے 18 دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں جبکہ وائس چانسلرز کی عدم موجودگی کے باعث بھی جامعات کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔
اختیار ولی خان نےکہا کہ کراچی میں سڑکوں کی خراب حالت کی شکایات کے باوجود خیبرپختونخوا سے شہر آنے والے افراد وہاں کی سڑکوں کو اپنے صوبے کی سڑکوں سے بہتر قرار دیتے ہیں۔انہوں نےخیبرپختونخوا کے عوام اور صحافیوں پر زور دیا کہ وہ زمینی حقائق کو اجاگر کریں جبکہ دعویٰ کیا کہ صوبے کے شہری صحت کی سہولیات کی صورتِ حال سے مطمئن نہیں ہیں۔انہوں نے پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کےشعبوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس شہداء کی فورس ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ اہلکاروں کو مناسب اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا اور صوبائی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے لیے مختص فنڈز بھی روک رکھے ہیں۔اختیار ولی خان نے صوبائی وزراء پرکرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو امن، صحت کی سہولیات اور ایسی سیاسی ثقافت کی ضرورت ہے جو برداشت، قبولیت اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔







