پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو آج کے قابلِ فخر دن پر مبارکباد پیش کرتی ہوں
پاکستان نے ایران۔امریکا تنازعہ میں امن کے لئے اہم کردار ادا کیا، آبنائے ہرمز کھلنے سے توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں بہتری آئے گی، سینیٹر شیری رحمن
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو آج کے قابلِ فخر دن پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، پاکستان نے ایران۔امریکا تنازعہ میں امن کے لئے اہم کردار ادا کیا، آبنائے ہرمز کھلنے سے توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں بہتری آئے گی، غربت کے شکار عوام کو عالمی قیمتوں میں کمی سے ریلیف ملے گا۔ پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین بلاول بھٹو اور قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران۔امریکا تنازعہ میں امن کے لئے اہم کردار ادا کیا، دنیا بھر سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، دعا ہے ایران۔امریکا معاہدے پر جمعہ کو دستخط ہو جائیں، اسرائیل سیز فائر کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکا، پاکستان نے بیک ڈور اور سائیڈ چینل ڈپلومیسی سے ناممکن کو ممکن بنایا۔ شیری رحمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں بہتری آئے گی، غربت کے شکار عوام کو عالمی قیمتوں میں کمی سے ریلیف ملے گا، 18کھرب روپے کے بجٹ میں متوسط اور مظلوم طبقے کو ریلیف ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی عارضی طور پر لگائی گئی تھی، اسے مسلسل نہ بڑھایا جائے، لیوی اور ٹیکس میں فرق ہے، لیوی کی رقم صوبوں کو منتقل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں پر اخراجات کی ذمہ داری صوبوں پر ہوتی ہے، ٹیکسوں کو لیویز میں تبدیل کرنے سے صوبوں کے مالی وسائل محدود ہو رہے ہیں، پٹرولیم لیوی حقیقت میں سیلز ٹیکس کی نوعیت رکھتی ہے مگر اسے مسلسل بڑھایا جا رہا ہے، کاربن ٹیکس کی بجائے کاربن لیوی نافذ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کم اور صوبوں پر کٹوتیاں زیادہ کی گئی ہیں، صوبائی وسائل میں کمی سے ترقیاتی اور سماجی پروگرام متاثر ہو رہے ہیں، قومی سلامتی اور دفاعی بجٹ کی ضروریات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر تجارت اور سروس سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، پاکستان کو ٹیکسیشن بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، سروسز سیکٹر میں صوبے ایف بی آر سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، بجٹ کا 42.8 فیصد حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کرنا خوش آئند ہے، ملک میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد ہے، وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات میں نمایاں کمی لانی چاہئے۔ وفاقی حکومت کے اخراجات پی ایس ڈی پی سے بھی زیادہ ہیں، سرکاری اداروں کےلئے 451 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات 832.8 ارب روپے تک پہنچ گئے، سرکاری اداروں کے مجموعی اخراجات 6.563 کھرب روپے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے جو وسائل کی شدید کمی پیدا کر رہی ہے، کلائمیٹ کے نام پر لیوی تو لی جا رہی ہے مگر اس رقم کا مطلوبہ استعمال نہیں ہو رہا، کلائمیٹ بجٹ میں کمی تشویشناک ہے، پاکستان اب کپاس، گندم اور چینی درآمد کر رہا ہے، یہ وہ اجناس ہیں جنہیں پاکستان ماضی میں برآمد کیا کرتا تھا، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات مستقبل میں مزید شدید ہوں گے، محصولات کے نام پر لیویز بڑھانے کی بجائے صوبوں کے مالی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو وسائل دیئے بغیر صحت، تعلیم اور فلاحی اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے، آئندہ بجٹ سے قبل جنوری سے ہی تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔









