پاکستان نے عدالتی انتظام اور قانونی اصلاحات کے شعبے میں ترکیہ کے تجربات سے بھرپور استفادہ کیا ہے، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان عدالتی اور قانونی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں جبکہ وکلاء تنظیموں کے درمیان روابط سے ادارہ جاتی تعاون اور پیشہ ورانہ استعداد مزید مستحکم ہوگی۔

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان عدالتی اور قانونی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں جبکہ وکلاء تنظیموں کے درمیان روابط سے ادارہ جاتی تعاون اور پیشہ ورانہ استعداد مزید مستحکم ہوگی۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے سپریم کورٹ پاکستان میں پاکستان بار کونسل کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر آئے استنبول بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عدالتی انتظام اور قانونی اصلاحات کے شعبے میں ترکیہ کے تجربات سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قانونی برادریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے ساتھ ساتھ بار ایسوسی ایشنز کے درمیان پیشہ ورانہ روابط بھی ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط اور باہمی مفاہمت کو فروغ دیں گے۔استنبول بار ایسوسی ایشن کے وفد نے سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان اور ترکیہ کی وکلاء برادری کے درمیان علم، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین تجربات کے تبادلے کے ذریعے تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے وفد کو یقین دلایا کہ سپریم کورٹ دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور عدالتی تعاون کو فروغ دینے والی ہر مثبت کاوش کی مکمل ادارہ جاتی حمایت جاری رکھے گی۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون، پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے، قانون کی حکمرانی کے فروغ اور باہمی سیکھنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید خبریں