اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے مذہبی آزادیوں سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔ منگل کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی مذہبی آزادیوں سے متعلق20 دسمبر کو جاری کی گئی رپورٹ یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ رپورٹ میںنہ صرف پاکستان کے زمینی …
پاکستان نے مذہبی آزادیوں سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کر دی،ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے مذہبی آزادیوں سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔ منگل کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی مذہبی آزادیوں سے متعلق20 دسمبر کو جاری کی گئی رپورٹ یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ رپورٹ میںنہ صرف پاکستان کے زمینی حقائق کو مد نظرنہیں رکھا گیا بلکہ اس پورے عمل کی ساکھ اور شفافیت پر بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ مخصوص ممالک کو نشانہ بنانے کی عکاس ہے اور اس طرح مذہبی آزادیوں پر پیش رفت کے مقصد کے حصول میں مدد گار نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک کثیر الجہتی مذاہب والا ملک ہے جہاں لوگوں کو آئینی تحفظات کے تحت تمام مسالک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایگزیکٹو، ارکان پارلیمنٹ اور عدلیہ نے مذہب رنگ نسل کی تفریق کے بغیر تمام شہریوں کو ان کے مذاہب کے مطابق ہر قسم کی آزادی کے لئے مربوط کوششیں کی ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تقدس اور سلامتی کو یقینی بنانے ک ےلئے تاریخی فیصلے دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذہبی آزادیوں کے مسائل پر بہتر مفاہمت کے لئے امریکہ سمیت عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ رواں سال کے آغاز پر امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے بارے میں اعزازی سفیر سینیٹر سیموئل برون بیک پاکستان کے دورے کئے اور عالمی سطح پر مذہبی آزادیوں کے باہمی اہداف کے حصول کے لئے مذاکرے میں شرکت کی۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تعمیری بات چیت کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادیوں کا چیلنج عالمی مسئلہ ہے اور اس کو صرف تعاون پر مبنی کوششوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، اس تناظر میں پاکستان نے امریکہ سمیت مختلف مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ مذہبی آزادیوں کے تحفظ اور فروغ کے ہدف کے حصول کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ اعتماد اور مفاہمت کے ماحول میں مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی طویل معطلی اور کشمیریوں سے سلوک پر دو سماعتیں کیں اور 70 سے زائد امریکی ارکان پارلیمنٹ نے اس پر گہری تشویش ظاہر کی۔ اسی طرح جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کئی ارکان یورپی پارلیمنٹ نے بھی اس پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا حالیہ ترمیمی شہریت بل لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کی تازہ ترین مثال ہے اور اس سے مذہب کی بنیاد پر معاشرے مین نسل کشی کی راہ ہموار ہو گی۔







