پاکستان نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین کانسی کے تمغے جیت لیے، جس سے عالمی سطح پر پاکستانی طلبہ کی سائنسی صلاحیتوں کا ایک بار پھر بھرپور اعتراف کیا گیا۔
پاکستان نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے جیت لیے

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):پاکستان نے بین الاقوامی سائنسی مقابلوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں 4 سے 12 جولائی تک منعقد ہونے والی 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے اپنے نام کر لیے۔پاکستان کی جانب سے ذوالفقار علی (گورنمنٹ سٹی بوائز سکول، ڈیرہ غازی خان)، علی حمدان علوی (ایف جی سرسید کالج، راولپنڈی) اور دانیال شہزاد حامد (دی سائنس سکول، روات، اسلام آباد) نے کانسی کے تمغے حاصل کیے جبکہ حذہ محمود (ایچی سن کالج، لاہور) اور عبداللہ اعجاز (صدیق پبلک سکول، راولپنڈی) کو شاندار کارکردگی پر اعزازی اسناد سے نوازا گیا۔56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں 90 سے زائد ممالک کے 400 سے زیادہ نمایاں طلبہ نے شرکت کی جہاں نوجوان سائنس دانوں نے اپنی علمی صلاحیتوں اور مسئلہ حل کرنے کی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی ٹیم کے طلبہ کا انتخاب 22ویں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کانٹیسٹ (NSTC) کے ذریعے کیا گیاجو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کے مشترکہ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے تحت منعقد ہوتا ہے۔ ملک گیر سخت انتخابی مرحلے کے بعد منتخب طلبہ نے PIEAS میں رہائشی تربیتی کیمپوں میں قومی و بین الاقوامی ماہرین سے نظری اور عملی تربیت حاصل کی۔پاکستانی ٹیم کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفان اور ڈاکٹر محمد وسیم نے کی۔پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے زیرِ انتظام PIEAS ہر سال فزکس، کیمسٹری، حیاتیات اور ریاضی میں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کانٹیسٹ کا انعقاد کرتا ہے تاکہ نویں، دسویں، او لیول، ایف ایس سی پارٹ ون اور اے لیول پارٹ ون کے باصلاحیت طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔ یہ مقابلہ ملک کے 19 شہروں میں منعقد ہوتا ہے، جبکہ کامیاب طلبہ کو خصوصی تربیت کے بعد بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع دیا جاتا ہے۔اسٹیم کیریئرز پروگرام کے آغاز سے اب تک 365 سے زائدپاکستانی طلبہ بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں اور مجموعی طور پر 144 تمغے جیت چکے ہیں، جبکہ 256 سے زائد اعلیٰ تربیتی کیمپوں کے ذریعے 5 ہزار سے زیادہ طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ PIEAS سمیت اپنے اداروں کے ذریعے سائنس کی تعلیم، جدید تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے نوجوان سائنسی صلاحیتوں کی سرپرستی جاری رکھے گا تاکہ ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔







