پاکستان کا اقوام متحدہ سے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نئی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ
پاکستان کا اقوام متحدہ سے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نئی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک کی بریفنگ کے بعد ہونے والے مکالمے کے دوران کیا۔ وولکر ترک نے کمیٹی کو بتایا کہ دنیا میں مسلح تنازعات کی تعداد 2010 کے بعد سے دوگنا ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت شدید عالمی بے یقینی، ساختی عدم مساوات اور بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔انہوں نے غزہ، یوکرین، سوڈان، لبنان، میانمار اور جمہوری جمہوریہ کانگو سمیت مختلف تنازعات سے متاثرہ علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مقامات پر بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق امن، انصاف اور پائیداری کے لیے امید کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔پاکستانی مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگست 2019 کے بعد سےے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی 2018 اور 2019 کی رپورٹس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب، انسانی حقوق کے اداروں کو بلا رکاوٹ رسائی دینے اور بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر غور کرنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم ان سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
سفیر عثمان جدون نے ہائی کمشنر سے استفسار کیا کہ ے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں اگست 2019 کے بعد کی صورتحال سمیت تازہ ترین پیش رفت کا احاطہ کرنے والی نئی رپورٹ کب جاری کی جائے گی اور سابقہ دو رپورٹس کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے اب تک کیا ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے پاکستانی مندوب کے سوالات کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔







