اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے امریکہ بھارت سیٹلائیٹ تعاون معاہدے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن معاہدے (بی ای سی اے) پر دستخط کا نوٹس لیا ہے اور امریکہ بھارت معاہدے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔منگل کو دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو جدید فوجی ہارڈویئر ، ٹیکنالوجی اور معلومات …
پاکستان کا امریکہ بھارت سیٹلائیٹ تعاون معاہدے پر رد عمل

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے امریکہ بھارت سیٹلائیٹ تعاون معاہدے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن معاہدے (بی ای سی اے) پر دستخط کا نوٹس لیا ہے اور امریکہ بھارت معاہدے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔منگل کو دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو جدید فوجی ہارڈویئر ، ٹیکنالوجی اور معلومات کی فراہمی کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں سٹریٹجک استحکام کو لاحق خطرات کو مسلسل اجاگر کرتا رہا ہے۔ بھارت کا بڑے پیمانے پر اسلحے کا حصول اور جوہری ہتھیاروں میں توسیع ، جس میں نئے عدم استحکام پیدا کرنے والے ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں ، جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔بھارت کی جانب سے حال ہی میں کئے گئے میزائل تجربوں میں اضافے کی بے مثال شرح بھارتی روایتی اور جوہری فوجی تیاریوں کا عکاس ہے۔بھارت سے ٹیکنالوجی تعاون پر عالمی ماہرین نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔معاہدے سے جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن بگڑ رہا ہے۔ اس نے ایک بار پھر متعدد بین الاقوامی ماہرین کی طرف سے بھارت کے ساتھ اعلی ٹیکنالوجی تجارت کے فوجی سپنوں کے خدشات کی تصدیق کی ہے ، جس نے نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کو ختم کیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء کے اسٹریٹجک استحکام کو منفی طور پر بھی متاثر کیا ہے۔ یہ پیشرفت اس دلیل کی واضح طور پر تردید کرتی ہے کہ بین الاقوامی برآمدی کنٹرول حکومتوں میں ہندوستان کی مرکزی دھارے ان حکومتوں کے عدم پھیلاؤ کے مقاصد کو مزید آگے بڑھا دے گی۔







