اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کا ثقافتی تنوع اس کی سب سے بڑی طاقت اور قومی وحدت، امن و ترقی کی مضبوط بنیاد ہے ، تقسیم اور عدم مساوات جیسے مسائل نے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے، ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دینا اور تنوع کو خطرہ سمجھنے سے ہم اپنی قومی شناخت کی بنیاد …
پاکستان کا ثقافتی تنوع قومی وحدت اور امن و ترقی کی مضبوط بنیاد ہے، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کا پالیسی ڈائیلاگ برائے قومی یکجہتی و ثقافتی سالمیت کے امکانات اور چیلنجز سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کا ثقافتی تنوع اس کی سب سے بڑی طاقت اور قومی وحدت، امن و ترقی کی مضبوط بنیاد ہے ، تقسیم اور عدم مساوات جیسے مسائل نے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے، ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دینا اور تنوع کو خطرہ سمجھنے سے ہم اپنی قومی شناخت کی بنیاد کو کمزور کر دیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ برائے قومی یکجہتی اور ثقافتی سالمیت کے امکانات اور چیلنجز سے خطاب میں کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مکالمہ حکومت کے اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کی مختلف برادریوں میں ہم آہنگی، شمولیت اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے کہ ثقافت کو ایسا پل بنایا جا سکے جو ہمارے درمیان موجود اختلافات کو جوڑ دے۔انہوں نے بتایا کہ سینٹر فار نیشنل کوہیشن اینڈ آئوٹ ریچ ایک تحقیقی و عملی ادارے (Think and Do Tank) کے طور پر کام کرے گا
جو پاکستان کے ثقافتی تنوع کو دستاویزی شکل دے گا، نوجوانوں کو فنون، میڈیا اور تعلیم کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی کے عمل میں شامل کرے گا اور پالیسی سازی کے لیے شواہد پر مبنی تجاویز فراہم کرے گا۔ یہ مرکز تخلیقی اظہار کو کمیونٹی کی طاقت میں بدلنے کا ذریعہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ لوک ورثہ جیسے ادارے اور سینٹر فار نیشنل کوہیشن جیسی نئی تجاویز ان رشتوں کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، حکومت ثقافتی شعبے کو مضبوط، جامع اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزارت قومی ورثہ و ثقافت یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے یونیسکو اور یو این او ڈی سی کے تعاون سے ایسے پروگرام ترتیب دے رہی ہے جو امن، رواداری اور شہری اقدار کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کسی قانون سے قائم نہیں کی جا سکتی، یہ تب پروان چڑھتی ہے جب ہم مکالمے میں سرمایہ کاری کریں، تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں اور ہر پاکستانی کو یہ احساس ہو کہ اس کی شناخت اور آواز قابل احترام ہے۔
سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے سینٹر فار نیشنل کوہیشن اینڈ آئوٹ ریچ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے مشترکہ ثقافتی ورثے ،کہانیوں، نغموں اور اقدار کو بنیاد بنا کر عوام کو قریب لانا اور معاشرتی تقسیم کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مرکز فنکاروں، ماہرین اور کمیونٹی رہنمائوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں وہ مکالمے، تخلیقی سرگرمیوں اور نوجوانوں کی شمولیت کے ذریعے قومی یکجہتی اور ایک جامع پاکستان کے وژن کو آگے بڑھائیں گے۔








