پاکستان کا خواتین کو انصاف کی فراہمی کے لیے قانون سازی اور عالمی تعاون بڑھانے پر زور

اقوام متحدہ ۔12مارچ (اے پی پی):پاکستان نے خواتین اور بچیوں کو مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے مضبوط قانون سازی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف تک رسائی صنفی مساوات کے حصول کا ایک بنیادی ستون ہے۔یہ بات پاکستانی مندوب سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے اقوامِ متحدہ میں خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کمیشن کا …

اقوام متحدہ ۔12مارچ (اے پی پی):پاکستان نے خواتین اور بچیوں کو مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے مضبوط قانون سازی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف تک رسائی صنفی مساوات کے حصول کا ایک بنیادی ستون ہے۔یہ بات پاکستانی مندوب سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے اقوامِ متحدہ میں خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کمیشن کا 70واں اجلاس 9 سے 19 مارچ 2026 تک نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری ہے۔

سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین کو انصاف کے حصول کے لیے متعدد نظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے جو انہیں تحفظ، قانونی چارہ جوئی اور جوابدہی کے عمل تک رسائی سے محروم کر دیتی ہیں۔ ان کے مطابق امتیازی سماجی رویے، معاشی عدم مساوات اور ادارہ جاتی کمزوریاں خاص طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ قومی قوانین کا جائزہ لے کر ایسے تمام امتیازی نکات کو ختم کریں جو خواتین کے حقوق کے منافی ہیں۔سینیٹر بشریٰ بٹ نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمنٹ نے خواتین کے تحفظ کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں غیرت کے نام پر قتل، خواتین کے خلاف روایتی و امتیازی رسوم، کام کی جگہ پر ہراسانی، زیادتی اور جنسی تشدد کے خلاف اہم قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ مؤثر عملدرآمد کے لیے ادارہ جاتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمان کی ذمہ داری صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ انصاف کے اداروں کی نگرانی مضبوط بنانا، مناسب مالی وسائل فراہم کرنا اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنانا بھی ہے۔سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات میں مؤثر کارروائی کے لیے انصاف کے اداروں کی پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے، قانونی معاونت، متاثرین کی مدد اور صنفی حساس عدالتی نظام کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔