پاکستان کا سویلین جوہری ٹیکنالوجی تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ۔30اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے سویلین جوہری تعاون تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ اور جوہری تحفظ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی سالانہ رپورٹ پر بحث …

اقوام متحدہ۔30اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے سویلین جوہری تعاون تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ اور جوہری تحفظ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی سالانہ رپورٹ پر بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سول ایٹمی تعاون تک منصفانہ اور غیر امتیازی رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا نہایت اہم ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ موجودہ عدم پھیلاؤ کے انتظامات میں موجود امتیازی سلوک کو ختم کرنے اور عالمی نگرانی کے تحت پُرامن ایٹمی توانائی کے فروغ کے لئے ایک جامع فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔بحث کے آغاز میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گرو سی نے اپنی ایجنسی کی رپورٹ پیش کی، جس میں یوکرین، ایران اور شام کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پُرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے فروغ، ایٹمی سلامتی و تحفظ کے اقدامات اور عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے کام کا احاطہ کیا گیا۔ ایجنسی کے اقدامات میں میری کیوری اور لیز میٹنر فیلوشپ کے ذریعے جوہری صنعت میں خواتین کارکنوں کو تربیت دینا اور صحت، خوراک کے تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے جوہری ٹیکنالوجی کی تنصیب شامل ہے۔

پاکستانی مندوب نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان ایٹمی سلامتی اور تحفظ کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات پر کاربند ہے، جو آئی اے ای اے کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو اپنی نگرانی اور تحفظ سے متعلق ذمہ داریوں پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے اور ان ذمہ داریوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ آئی اے ای اے کا تصدیقی نظام اسی وقت معتبر رہے گا جب اسے مکمل طور پر غیر امتیازی بنیادوں پر نافذ کیا جائے جیسا کہ ایجنسی کے دستور میں درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ محفوظ ایٹمی تنصیبات پر حملے نہ صرف آئی اے ای اے کے حفاظتی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، آئی اے ای اے کے آئین اور متعلقہ جنرل کانفرنس کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ملک کو ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔

اس وقت پاکستان میں6 ایٹمی بجلی گھر فعال ہیں جن کی مجموعی پیداوار 3,530 میگاواٹ ہے۔گزشتہ سال کے دوران ہمارے ہاں کل جوہری توانائی کی پیداوار مجموعی توانائی کا 18 فیصد رہی جو ہماری کم کاربن توانائی کی پیداوار کے 34 فیصد تک برابر ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ( CO2 ) کے اخراج میں ہر سال تقریباً 15 ملین ٹن کمی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ پُرامن ایٹمی توانائی کے فروغ کے لئے شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ اجتماعی اہداف اور پائیدار ترقی کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔