پاکستان کوآئی ٹی کی برآمدات کے لیے اپنی مصنوعات اور خدمات کو زیادہ مسابقت کا حامل بناتے ہوئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، سٹیٹ بینک

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):سٹیٹ بینک کے ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں وسیع استعدادکاحامل ملک ہے اور پاکستان کوآئی ٹی کی برآمدات کے لیے اپنی مصنوعات اور خدمات کو زیادہ مسابقت کا حامل بناتے ہوئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات سٹیٹ بینک کے شعبہ اقتصادی پالیسی جائزہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی نمو اور …

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):سٹیٹ بینک کے ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں وسیع استعدادکاحامل ملک ہے اور پاکستان کوآئی ٹی کی برآمدات کے لیے اپنی مصنوعات اور خدمات کو زیادہ مسابقت کا حامل بناتے ہوئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات سٹیٹ بینک کے شعبہ اقتصادی پالیسی جائزہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی نمو اور ملکی معیشت کے حوالے سے اس کے امکانات پر حالیہ پوڈکاسٹ میں کہی ہے ۔

سٹیٹ بینک کے ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں گذشتہ برسوں کے دوران تیز رفتار اضافہ ہواہے ہے ۔2013 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات 290 ملین ڈالر کی معتدل سطح سے بڑھ کر 2019 میں 890 ملین ڈالر ہو گئیں اور 2022 میں 2.1 ارب ڈالر کی متاثر کن سطح تک پہنچ گئیں۔ پوڈ کاسٹ میں شریک مہمانوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کو معاشی نمو کے اہم محرک کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور یہ شعبہ ملکی منڈی، بیرونی تجارت، ای گورنمنٹ اقدامات اور فن ٹیک کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ماہرین نے بتایا کہ خاصی پیش رفت کے باوجود پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے کو ابھی تک کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

آئی ٹی کی برآمدات میں قابل ذکر نمو ہوئی ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ صرف 0.3 فیصد کی قدرے پست سطح پر ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک ہماری برآمدی منڈی کے ارتکاز کی بہت بلند سطح ہے، پاکستان نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ جیسی برآمدی منڈیوں کو منتخب کیا ہے جہاں ہماری آئی ٹی برآمدات کی تجارت ہوتی ہے۔ پاکستان کوآئی ٹی کی برآمدات کے لیے اپنی مصنوعات اور خدمات کو زیادہ مسابقت کا حامل بناتے ہوئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

پوڈ کاسٹ میں مقامی آئی ٹی فرموں کی کے چھوٹے سائز اور مالی حدود ، آئی خدمات کی کم ملکی طلب اور غیر روایتی برآمدی منڈیوں کو دریافت کرنے کے فقدان جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ماہرین نے پاکستان میں سٹارٹ اپ کے وسیع ہوتے منظرنامے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اوربتایاگیا کہ حالیہ برسوں میں پاکستانی سٹارٹ اپس کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے ، جس میں سالانہ لاکھوں ڈالر جمع کیے جاتے ہیں، تاہم پاکستان اس میدان میں ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سٹارٹ اپ کے قیام کے لحاظ سے دیگر ممالک سے پیچھے ہے جس سے معیشت پر سٹارٹ اپس کے مجموعی اثرات کم ہو جاتے ہیں۔

سٹارٹ اپس کے لیے زیادہ تر فنڈنگ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی طرف سے آتی ہے، اس طرح مقامی سرمایہ کاریوں کی حوصلہ افزائی اور مقامی مارکیٹ میں سٹارٹ اپس کے بارے میں معلومات اور آگاہی بہتر بنانے کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔ آئی ٹی اور سٹارٹ اپ کے شعبوں کے مابین مہارت کے فرق پر بحث کرتے ہوئے ماہرین نے انسانی سرمائے کی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس شعبے کی ترقی میں حائل رکاوٹوں میں ہنرمند آئی ٹی گریجویٹس کی قلت اور ضروری عام مہارتوں کی کمی شامل ہیں۔ ماہرین نے قلیل مدتی حل بھی تجویز کیے گئے۔

ماہرین نے پاکستان کی معیشت پر مالی ٹیکنالوجی کی حامل کمپنیوں کے اثرات اور ڈجیٹل انقلاب میں درپیش چیلنجوں پر توجہ مبذول کرائی اورکہاکہ فِن ٹیک اپنے منفرد کردار کی بدولت نہ صرف دیگر سٹارٹ اپس کو متاثر کرتی ہیں بلکہ مالی اور صنفی شمولیت کو بھی فروغ دیتی ہیں ، جس سے وہ ملک میں ڈجیٹائزیشن اور مجموعی معاشی ترقی کے اہم محرک بن جاتے ہیں۔ فِن ٹیک کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس کی وجہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کردار ہے جو وہ مالی نظام کے ریگولیٹر کے طور پر ادا کر رہا ہے۔

ای ایم آئی پالیسی اور ادائیگی کے راست نظام کو متعارف کرانے جیسے اقدامات نے ملک میں فِن ٹیک کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ علاوہ ازیں سٹیٹ بینک نے پانچ ڈجیٹل بینکوں کو لائسنس جاری کیے ہیں جس سے فِن ٹیک ایکو سسٹم کو تقویت ملی ہے۔ماہرین نے بتایاکہ معیاری انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی آئی ٹی خدمات اور کاروباری اداروں کی کامیابی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ اگرچہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کا استعمال عالمی اوسط سے کم ہے۔

ڈجیٹل تبدیلی میں سہولت دینے اور فن ٹیک اور دیگر ڈجیٹل کاروبار کی ترقی میں معاونت کے لیے ملک بھر میں سستی اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی تک رسائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین نے آئی ٹی کے شعبے اور ای گورننس اقدامات کو فروغ دینے میں حکومتی کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا اور آئی ٹی فرموں کی ترقی اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے سرکاری ٹھیکوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ۔