"افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے میں بہتر ہوتے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ بارٹر تجارت کو فروغ دے کر 36 ارب ڈالر کی مارکیٹ سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔”
پاکستان کو ایران کی36 ارب ڈالر کی مارکیٹ سے استفادہ کرنا چاہیے، افتخار علی ملک
لاہور۔28جون (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کے بعد پیدا ہونے والے سازگار ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو ایران کی36 ارب ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی کے لیے بارٹر (اشیا کے بدلے اشیا) تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں بارٹر ٹریڈ دونوں ممالک کی تجارت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ اس نظام سے زرمبادلہ پر انحصار کم ہوگا جبکہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، سرحدی آبادی اور برآمد کنندگان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان چاول، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، اسپورٹس گڈز، ادویات، پراسیسڈ فوڈ، پھل، سبزیاں، حلال گوشت، چمڑے کی مصنوعات اور انجینئرنگ مصنوعات ایران برآمد کر سکتا ہے، جبکہ ایران سے پیٹرولیم مصنوعات، پیٹروکیمیکلز، کھاد، معدنیات اور صنعتی خام مال درآمد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ سرحدی تجارتی منڈیوں کے قیام، کسٹمز نظام میں بہتری، ٹرانسپورٹ رابطوں کے فروغ، کاروباری وفود کے تبادلوں، مشترکہ اقتصادی کمیشنوں کی بحالی اور تجارتی نمائشوں کے انعقاد کو ترجیح دی جائے تاکہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔









