لاہور۔11جنوری (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکلنے کے لیے اپنے بیرونی معاشی تعلقات کو ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا،جس کی بنیاد پائیدار اصلاحات، مسابقت اور جدت پر ہونی چاہیے۔اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر قومی سطح پر اصلاحات، اچھی حکمرانی، جوابدہی اور طویل المدتی ویژن کو اپنایا جائے …
پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکلنے کیلئے بیرونی معاشی تعلقات کو ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا،افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔11جنوری (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نکلنے کے لیے اپنے بیرونی معاشی تعلقات کو ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا،جس کی بنیاد پائیدار اصلاحات، مسابقت اور جدت پر ہونی چاہیے۔اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر قومی سطح پر اصلاحات، اچھی حکمرانی، جوابدہی اور طویل المدتی ویژن کو اپنایا جائے تو پاکستان بحرانی معیشت سے نکل کر عالمی نظام میں برابری کی بنیاد پر شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی دبائو کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی جبکہ وقتی سہولت کے بجائے طویل مدتی معاشی استحکام اور پائیداری کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔افتخار علی ملک نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدوں کے موثر اور مکمل نفاذ کو یقینی بنانا سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ اس سے عالمی برادری کو واضح پیغام جاتا ہے کہ پاکستان سنجیدہ کاروبار کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ملک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاروں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال کر کے اندرونی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
افتخار علی ملک نے جدت اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، فِن ٹیک، ایگری ٹیک اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبے پاکستان کو روایتی رکاوٹوں سے نکلنے اور عالمی ویلیو چینز کا حصہ بننے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدت پر مبنی ترقی نہ صرف اجناس پر انحصار کم کرتی ہے بلکہ معیاری اور باعزت روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ اگر درست سمت میں مربوط اقدامات کیے جائیں تو موجودہ دور پاکستان کے لیے ایک نئے، خودمختار اور پائیدار معاشی مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔








