پاکستان کی جنوبی سوڈان سے امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی اپیل

اقوام متحدہ ۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان نے جنوبی سوڈان میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام اور سیاسی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ جنوبی سوڈان پر زور دیا ہے کہ وہ امنِ نو معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے تاکہ ملک دوبارہ خانہ جنگی کی طرف نہ لوٹ جائے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنوبی سوڈان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے …

اقوام متحدہ ۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان نے جنوبی سوڈان میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام اور سیاسی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ جنوبی سوڈان پر زور دیا ہے کہ وہ امنِ نو معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے تاکہ ملک دوبارہ خانہ جنگی کی طرف نہ لوٹ جائے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنوبی سوڈان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندےسفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ہم طاقت کی تقسیم کے انتظامات کے کمزور ہونے اور جھڑپوں کے بڑھنے پر تشویش رکھتے ہیں، جن سے شہریوں کو نقصان پہنچا، نقل مکانی میں اضافہ ہوا اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کے مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے سیاسی عزم اور مکالمے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں 2026 کے عام انتخابات سے قبل سیاسی مسابقت تشدد کو ہوا دے سکتی ہے، جبکہ پڑوسی ملک سوڈان کی جنگ نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اپریل 2023 سے اب تک 12 لاکھ سے زائد افراد سوڈان سے جنوبی سوڈان میں پناہ لے چکے ہیں، جس سے مقامی وسائل پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ 2017 کے فائر بندی معاہدے کی پاسداری کریں، کشیدگی کم کریں اور جامع سیاسی مذاکرات میں شامل ہوں۔

انہوں نے افریقی یونین اور دیگر اداروں کی ان اپیلوں کی بھی حمایت کی جن میں پہلے نائب صدر ریک ماچار اور دیگر قید اپوزیشن رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ اعتماد بحال ہو اور امن معاہدے پر مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔پاکستانی نمائندے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنوبی سوڈان کے عوام کے ساتھ امن، استحکام اور ترقی کے لیے کھڑا ہے۔ انہوں نے جنوبی سوڈان کی حکومت کے اقوام متحدہ مشن (یواین ایم آئی ایس ایس )، افریقی یونین (اے یو ) اور علاقائی تنظیم (آئی جی اے ڈی )کے ساتھ تعاون کے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی سوڈان ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے، جس کی وجوہات میں مسلح تنازعات، شدید سیلاب، ہیضے کی وبا اور سوڈان کی جنگ کے اثرات شامل ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ انسانی امدادی منصوبےکے لیے فوری فنڈ فراہم کرے، جو فی الوقت صرف 30 فیصد مالی معاونت حاصل کر سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی امن فوجیوں نے جنوبی سوڈان میں 80 کلومیٹر طویل حفاظتی بند تعمیر کیے ہیں، جن سے ہزاروں افراد کو سیلاب سے تحفظ ملا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یو این مشن کے لیے مناسب وسائل کی فراہمی ضروری ہے اور جنوبی سوڈان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ سٹیٹس آف فورسز ایگریمنٹ (ایس اوایف اے )پر مکمل عمل کرے۔آخر میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ سیاسی عزم، علاقائی یکجہتی اور بین الاقوامی حمایت کے ساتھ جنوبی سوڈان اپنے عوام کے لیے پائیدار امن اور استحکام کا خواب پورا کر سکتا ہے۔

مزید خبریں