پاکستان کی حکومت اور عوام ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا یوم سیاہ کشمیر پر پیغام

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمدشہباز شریف کی قیادت میں حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے ہر سفارتی فورم پر بھرپور آواز بلند کررہی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت گیر قوانین کے نفاذ سے بھارت نے ایک منظم جبر کا نظام چلا رکھا ہے، بھارتی اقدامات عالمی انسانی حقوق کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمدشہباز شریف کی قیادت میں حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے ہر سفارتی فورم پر بھرپور آواز بلند کررہی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت گیر قوانین کے نفاذ سے بھارت نے ایک منظم جبر کا نظام چلا رکھا ہے، بھارتی اقدامات عالمی انسانی حقوق کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ یوم سیاہ کشمیر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر سال 27 اکتوبر کشمیر کی جدوجہد کی تاریخ میں ایک تلخ ترین یاد کو زندہ کرتا ہے۔

78برس قبل اسی دن بھارتی فوجیں سری نگر پہنچیں اور علاقے پر ناجائز تسلط قائم کر لیا جو انسانی حقوق کی ایک مسلسل ناانصافی کی داستان آج بھی لکھ رہی ہے۔اس تاریخی سانحے کے بعد سے بھارت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے، کھلم کھلا روند رہا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کافی لمبے عرصے سے ظلم اور جبر کا شکار ہیں۔ دہشت، خوف اور استحصال کے باوجود ان کی ہمت، بہادری اور آزادی کی لگن کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کا عزمِ آزادی کبھی ڈگمگایا نہیں اور نہ ہی کبھی کمزور پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بعد بھارت نے اپنی غیر قانونی اور یکطرفہ پالیسیوں کو مزید تیز کر دیا، جن کا واضح ہدف علاقے کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی حیثیت کو مسخ کرنا ہے۔انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ اظہار رائے، نقل و حرکت اور بنیادی آزادیوں پر بھی زنجیریں ڈالی گئی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت گیر قوانین کے نفاذ سے بھارت نے ایک منظم جبر کا نظام چلا رکھا ہے جس کا مقصد کشمیریوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو کچلنا اور ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دینا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ممتاز رہنما، سماجی کارکن اور صحافیوں کی غیر قانونی حراست، بے بنیاد مقدمات اور طویل قید بھارت کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کی کھلی مثال ہے۔

یہ اقدامات عالمی انسانی حقوق کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے کئے گئے غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ ہمارا واضح موقف ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور ساتھ ساتھ کشمیری عوام پر جو ظلم اور بربریت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف ہے۔

بطور وفاقی وزیر پارلیمانی امور میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو عوام کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ وہ تنہا نہیں ہیں، پاکستان کے عوام اور حکومت ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی سطح پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے ہر سفارتی فورم پر بھرپور آواز بلند کررہی ہے۔ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی پختہ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ کشمیر کاز سے جڑے رہیں گے اور پوری کوشش کریں گے کہ کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت ملے۔