پاکستان کی سلامتی و تحفظ سب سے زیادہ عزیز، ملک کی سلامتی کے لیے جو ممکن ہوا کریں گے، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

لاہور۔24مارچ (اے پی پی):چئیرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی و تحفظ ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے،جو بھی ممکن ہوا ہم اپنے ملک کی سلامتی کیلئے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں ختم نبوت سینٹر صحافی کالونی میں استحکام پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلم امہ کے …

لاہور۔24مارچ (اے پی پی):چئیرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی و تحفظ ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے،جو بھی ممکن ہوا ہم اپنے ملک کی سلامتی کیلئے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں ختم نبوت سینٹر صحافی کالونی میں استحکام پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلم امہ کے حالات کسی سے مخفی نہیں ہیں، جتنے مراحل سے ہم پچھلے دنوں گزرے ہیں،اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب اسلام کی سربلندی اور استحکام پاکستان کے لیے محنت اور جد و جہد کریں۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے دیگر ممالک کے ساتھ اس وقت جو ہو رہا ہے وہ سب ہمارے سامنے ہے، ایران کے ساتھ جو ہو رہا ہے، ان حالات میں پاکستان نے اپنا کردار بڑا واضح رکھا ہے،اسکا عملی مظاہرہ پاکستانی عوام میں بھی دیکھا گیا،ریاست نے جو پالیسی بنائی وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دنیا میں آج پاکستان نمایاں اور ہیڈ لائن ہے۔وہ عناصر جو پاکستان کو ڈی ٹریک کر رہے تھے وہ دیکھ لیں کل سے پاکستان کہاں کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم اور سپہ سالار نے جس انداز سے عالمی رہنماوں سے بات کی ہے،اس کے بعد سب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں پاکستان کا کردار قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان نے ہمارا ساتھ دیا،کسی نے ایسے ساتھ نہیں دیا،ہم نے برادر اسلامی ممالک کو بھی باور کروایا کہ کس طرح دشمن مسلمانوں پر حملہ آور ہے،ہم نے ایران کو بھی باور کروایا کہ دشمن کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا وطن ہے،سپہ سلار نے علما کنونشن میں کہا تھا کہ کسی نے پاکستان پر کسی کو فوقیت دینی ہے یا تشدد کرنے والوں کو فوقیت دینی ہے تو وہ تشدد کرنے والوں کے ساتھ چلاجائے۔انہوں نے کہا کہ کچھ بھگوڑوں سے را کی طرف سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرایا گیا جبکہ موجودہ تناظر میں سعودی عرب اور پاکستان کا موقف ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنائی پر حملے کے بعد ریاض،عمان پر بھی حملے ہوئے جبکہ 50لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں ہیں جو مختلف مسالک سے تعلق رکھتے ہیں،وہ سب جنگ نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو اسرائیل گھسیٹ کر اس جنگ میں لایا،اب گریٹر اسرائیل کا خواب پاکستان کی وجہ سے ناکام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کے خطبات میں ایران کیلئے اجتماعی دعائیں ہوئی ہیں کیونکہ آیت اللہ خامنائی نے کہا ہوا ہے کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین گناہ ہے۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران میں160 معصوم بچیوں کو شہید کیا گیا۔مسجد اقصی125 دن سے بند ہے،تاریخ میں پہلی بار بیت المقدس میں نماز عید ادا نہیں ہوئی،ایران پر حملہ کرکے غزہ اور لبنان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس سے توجہ ہٹا دی گئی،لیکن اسرائیل پاکستان کی وجہ سے ناکام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی و تحفظ ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے،جو بھی ممکن ہوا،ہم اپنے ملک کی سلامتی کیلئے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ مستقل جنگ بندی ہوجائے،بس ہمارا چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سر زمین سے پاکستان پر دہشت گردی نہ کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری قیادت عالمی مسئلے کے حل کیلئے مصروف ہے اور موجودہ صورتحال میں سرخرو ہوگی۔