پاکستان کی سپلائی چین کی مضبوطی میں ریلوے، ڈیٹا اور افرادی قوت کا کردار نہایت اہم ہے، سپلائی چین ماہر محمد طاہر صدیقی

طارق انجم اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں لاجسٹکس منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں، ریلوے کی بہتری کے اقدامت ایک بار پھر پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں، بندرگاہوں پر نقل و حمل کی لاگت پر نظرثانی ہو رہی ہے اور ڈیجیٹائزیشن اب محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے جس پر ماہرین زمینی حقائق …

طارق انجم

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں لاجسٹکس منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں، ریلوے کی بہتری کے اقدامت ایک بار پھر پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں، بندرگاہوں پر نقل و حمل کی لاگت پر نظرثانی ہو رہی ہے اور ڈیجیٹائزیشن اب محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے جس پر ماہرین زمینی حقائق کے مطابق تجاویز دینا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب میں مقیم سپلائی چین ماہر محمد طاہر صدیقی ایک متوازن حکمتِ عملی کی وکالت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں ممکن ہو، بڑی مقدار میں مال برداری کو ریلوے کی طرف منتقل کیا جائے، سپلائی چین کے تمام ڈیٹا کو آپس میں جوڑا جائے اور ان افراد کی تربیت و حوصلہ افزائی کی جائے جو روزانہ اس نظام کو چلاتے ہیں۔یہ سوچ پاکستان اور سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کے وسیع تر تناظر میں بھی اہم ہے۔

دونوں ممالک ویژن 2030 اور مختلف سرمایہ کاری فریم ورک کے تحت تعاون بڑھا رہے ہیں، جہاں لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر مشترکہ ترجیحات بن چکی ہیں۔ سعودی سرمایہ کاری پاکستان کے بندرگاہی منصوبوں، ریلوے کی کنیکٹیوٹی اور صنعتی راہداریوں میں دلچسپی رکھتی ہے جو پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔ طاہر صدیقی کا نقطہ نظر دو مختلف مگر مشکل تجرباتی دنیا پر مبنی ہے۔

سعودی عرب میں ایئربس ہیلی کاپٹرز کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ ایسے پیچیدہ سپلائی نیٹ ورک کی نگرانی کرتے ہیں جہاں معمولی غلطی بھی اہم پرزوں کی ترسیل روک سکتی ہے۔ اس سے قبل وہ پروکٹر اینڈ گیمبل پاکستان میں بڑے ویئرہائوس اور ٹرانسپورٹ آپریشنز کی قیادت کر چکے ہیں جہاں رفتار، لاگت اور حفاظت تینوں کو بیک وقت بہتر بنانا پڑتا تھا۔

ان کے مطابق اصل سبق یہ ہے کہ لچک اور استحکام ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ وہ سپلائی چین جو تیزی سے ردِعمل دے کر معیار برقرار رکھ سکے، وہی قابلِ اعتماد نظام ہے۔ریلوے کے کردار پر وہ حقیقت پسندانہ رائے رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیمنٹ، فولاد، کھاد اور پیک شدہ سامان جیسی بھاری مصنوعات کے لیے ریلوے فطری انتخاب ہے بشرطیکہ شیڈولز قابلِ بھروسا ہوں اور منتقلی کے مراحل صاف اور مربوط انداز میں مکمل ہوں۔

ان کے مطابق نجی شعبے کو چاہیے کہ چھوٹے پیمانے پر آزمائشی منصوبے شروع کرے، نتائج شفاف انداز میں شائع کرے اور صرف ان منصوبوں کو بڑھائیں جن کے اعداد و شمار درست ثابت ہوں۔ان کے نزدیک ڈیٹا سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ وہ SAP، Power BI اور مستند ماسٹر ڈیٹا کے ذریعے فوری فیصلے کرنے کے عادی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ویئرہائوس اور ٹرانسپورٹ سسٹم آپس میں مربوط نہیں تو منصوبہ بندی صرف اندازوں پر ہوگی۔

اگر کسٹمز اور پورٹ کے مراحل صارف کو نظر نہیں آتے تو کالز بڑھیں گی اور ٹرک رکے رہیں گے۔ وہ ایک ایسا نظام پسند کرتے ہیں جہاں بکنگ سے لے کر ترسیل تک ایک ہی گھڑی چل رہی ہو، الرٹس وقت سے پہلے متحرک ہوں، اور ہر ہفتے کے جائزے میں سپروائزر اپنے اعداد و شمار کے ذمہ دار ہوں۔ان کی گفتگو میں سب سے زیادہ زور انسانی سرمائے پر ہے۔ وہ روزانہ کی مختصر میٹنگز، محفوظ ورکنگ روٹین اور کارکردگی پر مبنی ترقی کو اہم سمجھتے ہیں۔

ماضی میں وہ 45 افراد تک کی ٹیموں کی قیادت کر چکے ہیں، ویئرہائوس اور مشینری کے استعمال کو موثر بنا کر اخراجات کو کم کیا ہے اور قیادت پر اعزازات بھی حاصل کیے ہیں لیکن ان کے نزدیک یہ کامیابیاں دراصل نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کی عکاس ہیں۔اخراجات اور پائیداری پر ان کا مقف واضح ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بہت سے منصوبے بیک وقت دونوں اہداف حاصل کرتے ہیں۔

روٹ آپٹیمائزیشن ایندھن اور وقت بچاتی ہے، توانائی کے لحاظ سے بہتر ویئرہا ئوس اخراجات کم کرتے ہیں اور ریلوے پر منتقلی کاربن اخراج اور ٹریفک کے دبائو کو کم کرتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ بچت جو سروس کو متاثر کیے بغیر حاصل ہو، سب سے دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ بہتر امکانات والے راستے منتخب کریں، انہی کا ڈیٹا پہلے مربوط کریں اور بارش یا سیلاب کے موسم سے پہلے متبادل منصوبے تیار رکھیں۔علاقائی سطح پر بھی وہ رجحانات پر نظر رکھتے ہیں۔

نئی راہداریوں اور شراکت داریوں سے رفتار ضرور بڑھے گی، مگر تب ہی جب نجی ادارے اپنا حصہ ڈالیں اور کارکردگی کا ڈیٹا کھلے انداز میں شیئر کریں۔ ان کا ایئروسپیس تجربہ جہاں ہر پرزے کی مکمل ٹریس ایبلٹی ضروری ہوتی ہے انہیں شفافیت کو سب سے بنیادی اصول سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے۔

مزید خبریں