پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات میں گفتگو

ڈیووس۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور درآمدات کے لئے تقریباً تین ماہ کا کور موجود ہے جو معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے، کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، حکومت کی توجہ حسابات …

ڈیووس۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور درآمدات کے لئے تقریباً تین ماہ کا کور موجود ہے جو معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے، کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، حکومت کی توجہ حسابات جاریہ کے کھاتوں کے استحکام اور پائیدار معاشی ترقی پر ہے۔یہ بات انہوں نے پیر کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر مملکتِ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان سے ملاقات میں کہی۔

دوطرفہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی معاشی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ملاقات کے دوران سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پاکستان میں حالیہ معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مملکتِ سعودی عرب اور اس کی قیادت کا پاکستان کے لئے مسلسل اور بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو اجاگر کیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے سعودی ہم منصب کو اہم معاشی اشاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور درآمدات کے لئے تقریباً تین ماہ کا کور موجود ہے، جو معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت 16آئی پی اوز زیرِ غور ہیں جبکہ گزشتہ سال کامیابی سے 9آئی پی اوز مکمل کئے گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ 20ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں جو معیشت پر اعتماد کی واضح علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے جبکہ مانیٹری پالیسی کے فیصلے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کے تحت کئے جاتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال معاشی شرحِ نمو 3.1 فیصد رہی جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ حسابات جاریہ کے کھاتوں کے استحکام اور پائیدار معاشی ترقی پر ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ترسیلاتِ زر کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ یہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر سے بڑھ کر رواں سال 41 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے آئی ٹی خدمات میں اضافہ کو بھی معاشی سرگرمیوں کے لئے مثبت قرار دیا ۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ معاونت کو سراہا۔

وزیر خزانہ نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معدنیات، زراعت اور دیگر پیداواری شعبے سرمایہ کاری کے لئے اہم ترجیح ہیں جو برآمدات میں اضافے اور مقامی آبادی کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔انہوں نے نجکاری کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ حالیہ عرصے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جن میں متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں دیگر سرکاری اداروں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کی نجکاری پر بھی کام جاری رکھا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ نجکاری کمیشن تجربہ کار ماہرین کی قیادت میں کام کر رہا ہے اور اس عمل کو شفاف، منظم اور پائیدار بنایا جا رہا ہے۔ سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے اپنی گفتگو میں سعودی عرب کے نجکاری کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مربوط اور مسلسل اصلاحات کے ذریعے مملکت نے طویل المدتی فوائد حاصل کئے۔

انہوں نے سعودی ہوائی اڈوں کی مثال دی جو اصلاحات کے بعد منافع بخش ادارے بن چکے ہیں۔ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں وزرائے خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید خبریں