پاکستان کے بین الاقوامی مطالعاتی دورے پر موجود اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے فیلوز کے گروپ کو وزارت خارجہ میں بریفنگ

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے فیلوز کا گروپ 8 تا 10 اکتوبر پاکستان کے بین الاقوامی مطالعاتی دورے پر ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے امور تخفیف اسلحہ کے زیراہتمام بین الاقوامی مطالعاتی دورے کے حصے کے طور پر پاکستان کا دورہ کرنے والے فیلوز کے گروپ میں الجزائر، انگولا، اینٹیگوا اور باربوڈا، ارجنٹائن، کمبوڈیا، مصر، فرانس، گھانا، گوئٹے مالا، گیانا، ہونڈوراس، ہنگری، ایران، لیبیا، …

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے فیلوز کا گروپ 8 تا 10 اکتوبر پاکستان کے بین الاقوامی مطالعاتی دورے پر ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے امور تخفیف اسلحہ کے زیراہتمام بین الاقوامی مطالعاتی دورے کے حصے کے طور پر پاکستان کا دورہ کرنے والے فیلوز کے گروپ میں الجزائر، انگولا، اینٹیگوا اور باربوڈا، ارجنٹائن، کمبوڈیا، مصر، فرانس، گھانا، گوئٹے مالا، گیانا، ہونڈوراس، ہنگری، ایران، لیبیا، مونٹی نیگرو، پاکستان، پالائو، پولینڈ، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، ٹوگو، ریاستہائے متحدہ امریکہ، ازبکستان، ویت نام اور یمن سمیت 24 ممالک کے افسران شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس دورے کا باضابطہ آغاز فیلوز کے وزارت خارجہ کے دورے سے ہوا جہاں انہیں اسلحہ کنٹرول، تخفیف اسلحہ اور جوہری عدم پھیلائو کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی بہتری کے لئے پرامن استعمال کے لئے ٹیکنالوجیز تک بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت پر بریفنگ دی گئی۔

دورے کے دوران، فیلوز صحت عامہ، صنعت، زراعت، فوڈ سکیورٹی، پاور جنریشن وغیرہ کے شعبے میں جوہری اور خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال کا مشاہدہ کرنے کے لیے پاکستان سینٹر آف ایکسیلنس آن نیوکلیئر سکیورٹی، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ، سپارکو، ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کا دورہ بھی کریں گے۔

پاکستان سینٹر آف ایکسیلنس آن نیوکلیئر سکیورٹی اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے دورے میں فیلوز کو پاکستان کے نیوکلیئر سیفٹی اور سکیورٹی آرکیٹیکچر، ریگولیٹری میکانزم اور حکومت پاکستان کی جانب سے متعارف کرائے گئے عالمی معیار کے مطابق حفاظتی انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی جنہیں جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا ہے۔

فیلوز مختلف لیبارٹریوں، عالمی سطح پر تسلیم شدہ ریفرنس لائبریریوں اور ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں جدید ترین سہولیات کا بھی دورہ کریں گے۔ سپارکو میں شرکاء پاکستان کے خلائی پروگرام اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اس کی افادیت سے آگاہی حاصل کریں گے۔

تخفیف اسلحہ پر اقوام متحدہ کے فیلوشپس پروگرام کا آغاز جنرل اسمبلی نے 1978 میں تخفیف اسلحہ کے لیے اپنے پہلے خصوصی اجلاس میں کیا تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے فیلوز کے لیے اس طرح کے بین الاقوامی مطالعاتی دورے کی میزبانی کر رہا ہے۔