پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل آپریٹر جاز کی خواتین کرکٹرز کے ساتھ شراکت داری

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل آپریٹر جاز نے خواتین کرکٹرزفاطمہ ثنا، سدرا امین، ندا ڈار، نشرہ سندھو اور گل فیروزا کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔دونوں کے درمیان یہ شراکت اسلام آباد میں جاز کے ہیڈ آفس میں کھلاڑیوں کے دورے کے دوران ایک معاہدے کی شکل میں طے پائی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کے اختیار اور کھیلوں میں خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی …

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل آپریٹر جاز نے خواتین کرکٹرزفاطمہ ثنا، سدرا امین، ندا ڈار، نشرہ سندھو اور گل فیروزا کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔دونوں کے درمیان یہ شراکت اسلام آباد میں جاز کے ہیڈ آفس میں کھلاڑیوں کے دورے کے دوران ایک معاہدے کی شکل میں طے پائی۔

اس اقدام کا مقصد خواتین کے اختیار اور کھیلوں میں خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اس شراکت داری کے تحت جاز خواتین کی کرکٹ کو فروغ دینے اورنوجوان لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لیے مختلف منصوبوں کی حمایت کرے گا۔ ان اقدامات میں تربیتی پروگرام شامل ہیں جو خواتین ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اس موقع پر جاز کے نائب صدر مارکیٹنگ علی فہد نے کہا کہ ہم مثبت معاشرتی تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں اور ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں جہاں صنفی مساوات اور خواتین کا اختیار بنیادی حیثیت رکھتا ہو۔ پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہماری شراکت داری شمولیت کے فروغ کی جانب ایک قدم ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کی کھیلوں میں سرمایہ کاری کرکے نہ صرف انفرادی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے بلکہ نوجوان لڑکیوں کو اپنے خوابوں کی جانب خود اعتمادی اور جذبے کے ساتھ بڑھنے کی ترغیب بھی ملتی ہے۔ پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے جاز کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہاکہ جاز کا خواتین کرکٹ کے لیے حمایت فراہم کرنا بے حد حوصلہ افزا ہے۔ یہ شراکت نوجوان لڑکیوں کو کھیلوں سے جڑنے کے لیے ترغیب دے گی۔ جاز کے اس تعاون سے ہمیں یقین ہے کہ خواتین کرکٹ نہ صرف ترقی کرے گی بلکہ نئے ٹیلنٹ کو بھی اپنی طرف راغب کرے گی۔جاز خواتین کے کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اپنی ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم تماشا کے ذریعے کمپنی نے حال ہی میں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کو لائیو اسٹریم کیا، جس سے خواتین کے کھیلوں کی مقبولیت اور رسائی کو تقویت ملی۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔