پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار: پالیسیوں کو یکجا کر کے قوانین کے فوری نفاذ اور’’ انفینٹ فیڈنگ بورڈز‘‘ کی بحالی کا مطالبہ

پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار: پالیسیوں کو یکجا کر کے قوانین کے فوری نفاذ اور’’ انفینٹ فیڈنگ بورڈز‘‘ کی بحالی کا مطالبہ

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):حکومت ،عدلیہ اور ماہرین صحت نے پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کی کمی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اصلاحات کے ذریعے قوانین کو یکجا کر کے فوری نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور یونیسف کے اشتراک سے اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن میں اعلی سطحی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس کانفرنس کا عنوان’’بکھری ہوئی پالیسیوں سے قابلِ نفاذ حقوق تک: پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کے لیے قانونی اصلاحات ‘‘ تھا۔وفاقی شرعی عدالت کے معزز جج جسٹس سید محمد انور نے اپنے خطاب میں قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونے کو المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام کا بکھراؤ ہماری کارکردگی کو کمزور کر رہا ہے۔

ماں کے دودھ کے متبادل (فارمولا ملک) کی غیر قانونی تشہیر روکنے کے لیے ریگولیٹری اداروں کو فعال ہونا ہوگا۔ دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی نہ صرف صحت کا مسئلہ ہے بلکہ ہمارا آئینی اور اسلامی فریضہ بھی ہے۔پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت (سٹنٹنگ)کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں ۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے مستقبل کا انحصار آج کے بچوں پر ہے، اس لیے محض اہداف طے کرنے کے بجائے انہیں ‘قابلِ نفاذ حقوق’ میں تبدیل کرنا ہوگا۔نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی عبوری چیئرپرسن نورین بانو نے کہا کہ جب تک خواتین کو کام کی جگہوں پر ڈے کیئر سینٹرز اور دودھ پلانے کے لیے محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا جائے گا، بچوں کی صحت کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔

گول میز کانفرنس نے سفارشات کیں کہ انفینٹ فیڈنگ بورڈز کو فوری طور پر بحال کر کے مانیٹرنگ کا نظام سخت کیا جائے۔سرکاری اور نجی دفاتر میں خواتین کے لیے بریسٹ فیڈنگ کارنرز اور ڈے کیئر کی سہولت لازمی قرار دی جائے۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مرکزی میکانزم بنایا جائے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بچوں کی صحت اور غذائیت کو صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قانونی حق کے طور پر منوائیں گے تاکہ پاکستان کی اگلی نسل کو معذوری اور کمزوری سے بچایا جا سکے۔

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔