پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی نے بدھ کو یہاں ’’سیڈ پوٹیٹو مینجمنٹ: آئندہ فصل کے لیے معیاری بیج آلو کی پیداوار، تحفظ اور ذخیرہ کرنے کے بہترین طریقے‘‘ کے عنوان سے ایک ویبینار کا انعقاد کیا جس کا مقصد آلو کے کاشتکاروں اور بیج تیار کرنے والے افراد کو جدید طریقۂ کار، بیماریوں کے تدارک اور محفوظ ذخیرہ کرنے کی عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا تاکہ آئندہ فصلوں کے …
پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کی جانب سےآئندہ فصل کے لیے معیاری بیج آلو کی پیداوار، تحفظ اور ذخیرہ کرنے کے بہترین طریقے کے عنوان سے ویبینار

مزید خبریں
اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی نے بدھ کو یہاں ’’سیڈ پوٹیٹو مینجمنٹ: آئندہ فصل کے لیے معیاری بیج آلو کی پیداوار، تحفظ اور ذخیرہ کرنے کے بہترین طریقے‘‘ کے عنوان سے ایک ویبینار کا انعقاد کیا جس کا مقصد آلو کے کاشتکاروں اور بیج تیار کرنے والے افراد کو جدید طریقۂ کار، بیماریوں کے تدارک اور محفوظ ذخیرہ کرنے کی عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا تاکہ آئندہ فصلوں کے لیے معیاری بیج کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
ویبینار کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ پیداوار اور صحت مند فصل کے حصول کے لیے معیاری بیج بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بتایا گیا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 15 سے 20 ہزار ٹن مصدقہ بیج آلو درآمد کرتا ہے جبکہ ملک میں اس کی مجموعی ضرورت تقریباً 11 لاکھ ٹن کے قریب ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ طلب اور رسد میں نمایاں فرق موجود ہے۔ اس کمی کو بڑی حد تک مقامی سطح پر محفوظ کیے گئے بیج کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، لہٰذا مقامی بیج کی پیداوار کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔تکنیکی نشست میں بیج آلو کی فصل کے انتظام، بیماریوں کی نگرانی، متوازن غذائیت اور مناسب ذخیرہ کرنے کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں آلو کی تقریباً 80 سے 90 فیصد کاشت ایسے بیج سے کی جاتی ہے جو کسان خود محفوظ کرتے ہیں تاہم بار بار استعمال، غیر مناسب ہینڈلنگ اور ناقص ذخیرہ کرنے کی وجہ سے اس بیج کا معیار بتدریج متاثر ہو جاتا ہے۔ اس لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر انتظامی طریقوں کو اپنانا پیداوار برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ویبینار میں پاکستانی بیج آلو کی برآمدی صلاحیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق روس، ازبکستان اور انڈونیشیا سمیت بعض ممالک کی جانب سے دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے تاہم برآمدات کے لیے بین الاقوامی نباتاتی صحت کے معیار، کیڑوں کے خطرے کے تجزیے اور مناسب دستاویزی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔
محکمہ تحفظ نباتات کے نمائندے نے بتایا کہ متعلقہ ممالک کے ساتھ کیڑوں کے خطرے کے تجزیے پر کام جاری ہے۔اجلاس میں ایروپونکس، ٹشو کلچر اور کنٹرولڈ ماحول میں بیج کی افزائش جیسے جدید طریقوں کو بھی اجاگر کیا گیا جو معیاری بیج آلو کی مقامی سطح پر تیز رفتار افزائش اور بیماریوں کے خطرات میں کمی کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی حکمت عملیوں کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں بیج آلو کی برآمدات کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔








