پاکستان 25 اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ٹھوس اور قابل تصدیق مانیٹرنگ میکانزم کے قیام کا منتظر ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان 25 اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ٹھوس اور قابل تصدیق مانیٹرنگ میکانزم کے قیام کا منتظر ہے، علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے کےلئے 19 اکتوبر کو دوحہ قطر میں طے پانے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، ہم اس سلسلہ میں برادر ممالک قطر اور ترکیہ کے تعمیری کردار کو سراہتے …

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان 25 اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ٹھوس اور قابل تصدیق مانیٹرنگ میکانزم کے قیام کا منتظر ہے، علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے کےلئے 19 اکتوبر کو دوحہ قطر میں طے پانے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، ہم اس سلسلہ میں برادر ممالک قطر اور ترکیہ کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ معاہدہ دوحہ میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے نمائندوں کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، بات چیت میں افغانستان سے پیدا ہونے والی پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کےلئے فوری اقدامات اور پاکستان افغانستان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان 25 اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ایک ٹھوس اور قابل تصدیق مانیٹرنگ میکانزم کے قیام کا بھی منتظر ہے تاکہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے اور پاکستانیوں کے مزید جانی نقصان کو روکا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کشیدگی نہیں چاہتا لیکن افغان طالبان حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنی وابستگی کا احترام کریں اور ایف اے کے/ٹی ٹٰی پی اور ایف اے ایچ/بی ایل اے سمیت دہشت گرد گروپوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرکے پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کریں۔

 

مزید خبریں