پاک جرمن پارلیمانی تعاون: خواتین کی سیاسی خود مختاری اور قانون سازی پر تجربات کے تبادلے کی تجویز

اکستان اور جرمنی نے پارلیمانی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور خواتین کی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ میں ویمن پارلیمانی کاکس اور جرمن وفد کے درمیان ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

اسلام آباد۔ 12 مارچ (اے پی پی):پاکستان اور جرمنی نے پارلیمانی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور خواتین کی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ میں ویمن پارلیمانی کاکس اور جرمن وفد کے درمیان ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔سیکرٹری ویمن پارلیمانی کاکس، ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے جرمن سفیر مس اینا لیپل اور فرسٹ سیکرٹری انسانی حقوق مس وایلیٹا آنند کزمووا کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں کاکس کے کثیر الجماعتی کردار پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ، صنفی مساوات اور سیاسی عمل میں ان کی بھرپور شمولیت کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نکتے پر متحد کرتا ہے۔ انہوں نے قانون سازی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے کاکس کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی۔جرمن سفیر مس اینا لیپل نے پاکستان میں خواتین پارلیمنٹیرینز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے جرمنی کے تعاون سے جاری منصوبوں کا ذکر کیا، جن میں انصاف تک رسائی، ہنر مندی کی تربیت اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ جرمنی پاکستان کے اداروں کو مضبوط بنانے اور پسماندہ طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ملاقات کی اہم ترین پیش رفت پاکستان کی قومی اسمبلی اور جرمنی کی پارلیمنٹ (بنڈسٹیگ) کے درمیان ‘لرننگ ایکسچینج’ پروگرام کی تجویز تھی۔ ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے تجویز دی کہ جسمانی دوروں اور ورچوئل رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کی خواتین پارلیمنٹیرینز ایک دوسرے کے بہترین طریقہ کار اور پالیسی سازی کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

اس اقدام کا مقصد جمہوری طرزِ حکمرانی اور خواتین کی قیادت کو عالمی تناظر میں بہتر بناناہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے انسانی حقوق اور جامع پالیسی سازی کے لیے مسلسل مکالمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس اہم ملاقات میں بچوں کے حقوق کی کنوینر ڈاکٹر نگہت شکیل، شاہدہ بیگم، زیب جعفر، فرح ناز اکبر، سیدہ شہلا رضا، طاہرہ اورنگزیب اور سینیٹرز ڈاکٹر زرقا سہروردی و فوزیہ ارشد سمیت دیگر اراکینِ پارلیمنٹ نے شرکت کی اور پاکستان کی سماجی و سیاسی ترقی کے لیے جرمنی کے تعاون کو سراہا۔

 

مزید خبریں
نائب وزیراعظم
پاکستان کو سخاوت، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی خدمت کی اپنی دیرینہ روایات پر فخر ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی یومِ انسانی ہمدردی کے موقع پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ان تمام انسانی خدمت گاروں اور رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو ضرورت کے وقت لوگوں کی مدد کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں۔ بدھ کو دفتر خارجہ کے مطابق انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں ہمدردی، خدمت اور آفات و دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑے ہونے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ اس عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر کمزور اور متاثرہ طبقات کی مدد اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سخاوت، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی خدمت کی اپنی دیرینہ روایت پر فخر ہے، یہ اقدار ہمارے معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہیں اور مشکلات کے وقت ہمیشہ ہمارے لوگوں کو متحد کرنے کا باعث بنی ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات کے حوالے سے ہمارے تجربے نے بارہا پاکستانی عوام کی استقامت، یکجہتی اور جذبۂ تعاون کو ثابت کیا ہے، شہریوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ آبادیوں کی مدد، امداد اور بحالی کی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں انسانی خدمت کے لیے سرگرم تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور ہمدردی، یکجہتی اور انسانیت کی خدمت کے اصولوں سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں