پاک فوج نے افغانستان کی بلااشتعال جارجیت پر جرات مندانہ ردِ عمل دے کر قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی

لاہور۔12اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ افغانستان کی بلااشتعال جارجیت قابل مذمت ہے، پاک فوج نے جرات مندانہ ردِ عمل دے کر قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے،پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو جامعہ نعیمیہ میں نعیمین ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی عہدیداروں سے تقریب حلف …

لاہور۔12اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ افغانستان کی بلااشتعال جارجیت قابل مذمت ہے، پاک فوج نے جرات مندانہ ردِ عمل دے کر قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے،پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو جامعہ نعیمیہ میں نعیمین ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی عہدیداروں سے تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے، مگر افغانستان کی جانب سے بار بار اشتعال انگیز اقدامات سے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

ایسے حملے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں، ان کا فوری تدارک اور عالمی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔حلف اٹھانے والوں میں مفتی علی رضاصابری، مفتی ابوبکر قریشی، مولانا فدا حسین قادری، مولانا غلام یاسین باروی، قاری جمیل احمد،مفتی سعید احمدنقیبی،حافظ محمدشاہد،مفتی بلال قادری اور مفتی تنویر احمد شامل تھے۔تقریب میں حاجی امداد اللہ نعیمی،ڈاکٹر وارث علی شاہین،مفتی قیصر شہزاد نعیمی،مفتی ندیم قمر،مفتی عمران حنفی،مفتی محمدعارف حسین، مفتی شفقت علی یوسفی سمیت جامعہ نعیمیہ کے اساتذہ و طلبہ کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مختلف ممالک کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے امید ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں دنیا کے تمام بڑے ممالک اپنا موثر کردار اداکریں گے تاکہ وہاں مستقل امن قائم ہوسکے ۔انہوں نے علما، میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کریں اور قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے گریز کریں۔امتِ مسلمہ کو آج جس فکری انتشار اور فتنوں کا سامنا ہے، اس سے نکلنے کے لیے علمائے کرام کا فعال، غیر متنازعہ اور خالص دینی کردار ناگزیر ہے۔تقریب کے اختتام پر ملک کی قومی کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکرائی کی گئی ۔