پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس نے زرعی شعبے میں طویل المدتی اقتصادی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے اعلان کیا ہے کہ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کے نتیجے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 78 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 4.5 ارب امریکی ڈالر ہے، یہ پیش رفت پاکستان کے زرعی اور غذائی شعبوں پر چینی سرمایہ کاروں کے غیر معمولی اعتماد کی …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے اعلان کیا ہے کہ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کے نتیجے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 78 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 4.5 ارب امریکی ڈالر ہے، یہ پیش رفت پاکستان کے زرعی اور غذائی شعبوں پر چینی سرمایہ کاروں کے غیر معمولی اعتماد کی عکاس ہے۔پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس نے زرعی شعبے میں طویل المدتی اقتصادی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے جس سے پاکستان ایک سرمایہ کاری کے لیے تیار اور مسابقتی ملک کے طور پر ابھرے گا۔

منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سرمایہ کاری کے یہ وسیع اور ٹھوس وعدے محض مذاکرات سے آگے بڑھ کر عملی،سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس کو روایتی مباحث کے بجائے براہ راست بزنس ٹو بزنس میچ میکنگ، ہدفی شعبہ جاتی روابط اور منصوبہ جاتی سرمایہ کاری سہولت کاری کے لیے ترتیب دیا گیا تھا تاکہ قابل عمل نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کانفرنس سے قبل بھرپور تیاری کی جس میں پاکستانی صنعتی اداروں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ منظم روابط شامل تھے تاکہ سرمایہ کاری تجاویز کو مارکیٹ کی ضروریات، جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

اس کے نتیجے میں دس اہم زرعی اور ذیلی شعبوں میں سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے جن میں فوڈ پروسیسنگ و ویلیو ایڈیشن، ایگری ٹیکنالوجی، بیج و پودوں کا تحفظ، لائیوسٹاک و ڈیری، گوشت و پولٹری، پھل و سبزیاں، فشریز و آبی زراعت، اینیمل فیڈ، بعد از برداشت انفراسٹرکچر اور زرعی مداخل شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی زرعی ویلیو چینز کو جدید بنانے،جدید پیداواری و پراسیسنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے اورمجموعی پیداوار میں نمایاں اضافے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرمائے اور ٹیکنالوجی کی آمد سے بالخصوص دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، فارم سے مارکیٹ تک روابط مضبوط ہوں گے اور بعد از برداشت نقصانات میں کمی آئے گی جس سے کسانوں کی آمدن اور دیہی معیشت بہتر ہوگی۔

معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری جی ڈی پی میں اضافے،زراعت سے منسلک صنعتی بنیاد کے فروغ اور ویلیو ایڈڈ زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں بہتری کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر پراسیسنگ صلاحیت میں اضافہ اور بہتر سپلائی چینز قومی غذائی تحفظ کے استحکام اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کانفرنس کے نتائج سی پیک فیز ٹو کے وسیع تر اہداف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں جن میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے موثر فالو اپ، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سرمایہ کاروں کو مسلسل سہولت فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس نے زرعی شعبے میں طویل المدتی اقتصادی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے جس سے پاکستان ایک سرمایہ کاری کے لیے تیار اور مسابقتی ملک کے طور پر ابھرے گا اور زراعت کو جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے اہم محرک کے طور پر مزید تقویت ملے گی۔