پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کے2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں معین عامر پیر زادہ کی زیر صدارت ہوا ،جس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کے2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں معین عامر پیر زادہ کی زیر صدارت ہوا ،جس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کے2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں زرعی ٹیوب ویلوں کے وزیر اعظم کے سولرائزیشن پروگرام کے تحت فنڈز کو فروری 2024 میں وزارت قومی غذائی تحفظ سے وزارت آبی وسائل کو منتقل کرنے کے حوالے ایک آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے تمام ارکان نے حیرت کا اظہار کیا ۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ نے کہا کہ یہ فیصلہ منصوبہ بندی ڈویژن کا تھا ،جس پر ارکان نے کہا کہ منصوبہ بندی ڈویژن کے سیکرٹری افسر کو بلا کر پوچھا جائے کہ اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ۔

پی اے سی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں منصوبہ بندی کمیشن اور آبی وسائل کے سیکرٹری اس معاملہ کی تمام وجوہات کی تفصیلات سے آگاہ کریں ۔ اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ کی 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا ۔آڈٹ حکام نے کہا کہ بونس کا جواز نہیں بنتا تھا ۔ اجلاس کے صدر نشین نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ اس معاملہ پر 7 دن میں جواب دے اور وہ ریکوری کا کہے تو فوری طور پر ریکوری کی جائے ۔ ارکان نے پی اے آر سی میں پیپرا رولز کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا، جس پر چیئرمین پی اے آر سی نے کہا کہ ان معاملات پر کچھ لوگوں کو نوکریوں سے برطرف بھی کیا ہے اور محکمانہ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے ۔ پی اے سی نے پی اے آر سی کو ہدایت کی کہ تین ماہ میں اقدامات کرکے پی اے سی کو آگاہ کریں ۔