پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری، نئے قوانین فوری طور پر نافذالعمل، نئے قوانین شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو مزید مضبوط بنائیں گے، ایم ڈی پیپرا حسنات احمد قریشی

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری، نئے قوانین فوری طور پر نافذالعمل، نئے قوانین شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو مزید مضبوط بنائیں گے، ایم ڈی پیپرا حسنات احمد قریشی

اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا پاکستان کے سرکاری گزٹ کے ذریعے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے اور نئے قوانین فوری طور پر نافذالعمل ہو گئے ہیں، وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی(سی سی ایل سی) کی سفارش پر نئے قوانین کی منظوری دی جن کے تحت پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔پیپراکی جانب سے پیرکویہاں جاری بیان کے مطابق سرکاری خریداری کے فریم ورک میں یہ نظرثانی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے جاری اصلاحات کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے جو تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت اور متعدد فورمز سے منظوری کے بعد حاصل ہوا۔ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے مطابق شروع کی گئی ان اصلاحات کا مقصد سرکاری اخراجات میں شفافیت یقینی بنانا، کاروبار میں آسانی کو فروغ دینا اور پاکستان میں سرکاری خریداری کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔بیان کے مطابق پیپرا آرڈیننس 2002 کی دفعہ 26 کے تحت وضع کیے گئے نئے قوانین فوری طور پر نافذالعمل ہو گئے ہیں تاہم نئے قوانین کے نفاذ سے قبل شروع کیے گئے خریداری کے معاملات 2004 کے قوانین کے تحت جاری رہیں گے جبکہ تمام نئی خریداریوں کا عمل پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کے تحت انجام دیا جائے گا۔

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 سرکاری خریداری کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں جس کا مقصد خریداری کے عمل کو موثر، منصفانہ اور شفاف بنانا اور سرکاری وسائل کے بہترین مالی استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ نئے قوانین کے تحت وفاقی خریداری کرنے والے اداروں کے لیے عوامی خریداری اور ڈسپوزل کے عمل میں ای۔پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم ای پیڈز کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ پروکیورمنٹ سیلز کے قیام کی بھی شق شامل کی گئی ہے۔ مزید برآں بڑے پیمانے کی خریداریوں میں مفادات کے ٹکرائو کو روکنے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن، جانچ اور پری شپمنٹ انسپیکشن کے طریقہ کار متعارف کرائے گئے ہیں۔نئے قوانین میں نفاذ کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے جس میں بلیک لسٹنگ اور کراس ڈی بارمنٹ، شکایات کے ازالے کے لیے آزاد کمیٹیوں اور پیپرا میں اپیل کے طریقہ کار کی شقیں شامل ہیں۔ قوانین میں اہم انحراف اور غلط طریقہ خریداری کی واضح نشاندہی کی گئی ہے جس میں دانستہ طور پر ای پیڈز سے باہر خریداری کرنا، مقررہ کمیٹیوں کی تشکیل نہ کرنا، من پسند یا مخصوص ادارے کو فائدہ پہنچانے والی شرائط و وضاحتیں مقرر کرنا، اشتہار اور جوابی مدت سے متعلق تقاضوں کی خلاف ورزی اور مقررہ جائزہ معیار پر عمل نہ کرنا شامل ہیں۔نئے قوانین میں خریداری کے مزید جدید اور موثر طریقے بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن میں گیلپ ٹینڈرنگ اور متبادل طریقہ ہائے خریداری، بشمول شاپنگ اور مذاکراتی ٹینڈرنگ شامل ہیں تاہم یہ طریقے مقررہ شرائط کے تابع ہوں گے۔ کارکردگی میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات کو قوانین کا حصہ بنایا گیا ہے

جن کے تحت ریسپانس ٹائم اور سٹینڈ سٹل مدت میں کمی اور ٹینڈر کے عمل کو مختصر اور موثر بنایا گیا ہے تاکہ معاہدوں کے اجراء کا عمل تیز کیا جا سکے۔قوانین میں پائیدار خریداری، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور دوردراز کے کاروباری طبقات کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ خریداری کے طریقہ کار کو ماحولیاتی پالیسی سے ہم آہنگ کرنے کی بھی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ پیپرا کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے بتایا کہ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں اور عوامی خریداری میں شفافیت، مسابقت، جوابدہی، کارکردگی اور سرکاری وسائل کے بہترین مالی استعمال کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جدید ریگولیٹری فریم ورک فراہم کیاگیاہے۔انہوں نے کہا کہ نئے قوانین خریداری کے مکمل دورانیے میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کراتے ہیں جن میں خریداری کی منصوبہ بندی اور بولیوں سے لے کر معاہدوں کے انتظام، کارکردگی کے جائزے اور معاہدوں کی تکمیل تک تمام مراحل شامل ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈیجیٹل خریداری، آزادانہ نگرانی، معلومات کی شفافیت اور واضح جوابدہی کے طریقہ کار متعارف کرانے سے خریداری کے عمل پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور سرکاری وسائل کے بہتر انتظام میں مدد ملے گی۔ ایم ڈی پیپرا نے پیپرا بورڈ کی رہنمائی اور کابینہ ڈویژن کی جانب سے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان مشترکہ کاوشوں نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا ۔