پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کی جانب سے نجکاری پروگرام میں اسٹریٹجک اضافے اور کمی کی سفارش

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):نجکاری کمیشن (پی سی) بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں پیر کو منعقدہ اپنے 243 ویں اجلاس میں قومی نجکاری پروگرام میں اہم ردوبدل کی تجویز پیش کی ہے۔نجکاری بورڈ نے بورڈ کی سرمایہ کاری کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پرتین سرکاری اداروں (SOEs) کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی اور دو …

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):نجکاری کمیشن (پی سی) بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں پیر کو منعقدہ اپنے 243 ویں اجلاس میں قومی نجکاری پروگرام میں اہم ردوبدل کی تجویز پیش کی ہے۔نجکاری بورڈ نے بورڈ کی سرمایہ کاری کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پرتین سرکاری اداروں (SOEs) کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی اور دو سرکاری اداروں کو ڈی لسٹ کرنے کا مشورہ دیا۔وزارت نجکاری کے نجکاری کمیشن کی جانب سے پیر کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق نجکاری کمیشن کی سرمایہ کاری کمیٹی نے نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کے ذریعے کمیشن کو بھیجے گئے 15 SOEs کا تفصیلی جائزہ لیا۔

سرمایہ کاری کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر پی سی بورڈ نے سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل)، پاکستان منرلز ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) اور نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کو نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دے دی جبکہ باقی 12 SOEs کو سرمایہ کاری کمیٹی کے ذریعے نجکاری کے لیے قابل عمل نہیں پایا گیا اور اس لیے انہیں بورڈ کی جانب سے نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔بورڈ نے سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ (ایس ای ایل) اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو نجکاری پروگرام سے خارج کرنے کی بھی سفارش کی۔ سندھ انجنیئرنگ لمیٹڈ 2008-2007سے غیر فعال ہے اور اس کے واحد ٹھوس اثاثوں میں قانونی چارہ جوئی کے زیر اثر زمین شامل ہے۔

یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے معاملے میں حکومتی فیصلے کے بعد آپریشنز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور کارپوریشن کے واجبات اس کے اثاثوں سے کافی حد تک بڑھ گئی ہیں۔واضح رہے کہ اپنے نقطہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے پی سی بورڈ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نجکاری پروگرام حکومت کے وسیع تر SOE اصلاحات اور مالیاتی استحکام کے فریم ورک کی حدود میں رہے گا، جس میں شفافیت، مارکیٹ کی فزیبلٹی اور عوامی مفاد کے تحفظ فیصلوں کے رہنما ہوں گے۔

بورڈ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجکاری کے لیے صرف وہی ادارے جو قابل عمل ہونے اور لین دین کی موزونیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں شامل ہوں گے جبکہ انتظامی وزارتیں نجکاری کے لیے قابل عمل نہ پائے جانے والے SOEs کے لیے متبادل آپشنز بشمول لیکویڈیشن پر غور کر سکتی ہیں۔ یہ ترجیح اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ادارہ جاتی وسائل کو ان لین دین کے لیے بروےکار لایا جائے جو قابل اعتبار، قابل عمل، اور قومی اقتصادی مقاصد کے ساتھ منسلک ہوں۔

مزید خبریں